رسائی کے لنکس

ننگرہار میں فضائی کارروائی، داعش کا ریڈیو اسٹیشن تباہ


جلال آباد میں ایک شخص داعش کی نشریات سن رہا ہے۔

جلال آباد میں ایک شخص داعش کی نشریات سن رہا ہے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ فضائی کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں ’داعش‘ کا ریڈیو چلانے والے پانچ کارکن بھی شامل ہیں۔

افغانستان میں عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی مدد سے کی گئی فضائی کارروائی میں شدت پسند تنظیم داعش کے ریڈیو اسٹیشن کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

جس کے بعد اس کی نشریات نہیں سنی جا سکتیں ہیں۔

یہ کارروائی صوبہ ننگر ہار کے ضلع اچین میں پیر کو کی گئی جس میں 29 مشتبہ شدت پسند مارے گئے اور افغان حکام کا کہنا ہے کہ فضائی کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں ’داعش‘ کا ریڈیو چلانے والے پانچ کارکن بھی شامل ہیں۔

ننگرہار پولیس کے مطابق فضائی کارروائی حملہ ماماند کے پہاڑی علاقے میں کی گئی۔ افغان وزارت دفاع کی طرف سے بھی تصدیق کی گئی کہ فضائی کارروائی کے بعد "خلافت کی آواز" نامی ریڈیو کی نشریات بند ہو گئی ہیں۔

امریکی فوج کے ترجمان کرنل مائیکل لاہورن نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ اچین میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے سلسلے میں دو حملے کیے گئے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس کی مزید تفصیلات اس وقت فراہم نہیں کی جا سکتیں۔

لیکن شدت پسند گروپ ’داعش‘ نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں دعویٰ کیا کہ ریڈیو اسٹیشن تباہ کیے جانے کی خبریں درست نہیں۔

داعش نے صوبہ ننگر ہار میں اپنے قدم جمانے کے بعد افغانستان کے مشرقی حصوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

ننگرہار کے مقامی افراد اور حکام کا کہنا ہے کہ داعش کے ریڈیو سے گزشتہ ماہ سے روزانہ دو گھنٹوں کے لیے پروگرام نشر ہوتے تھے لیکن پیر کی شام سے یہ نشریات سنائی نہیں دے رہی ہیں۔

افغانستان میں ایک غیر سرکاری تنظیم ’افغان ہیومین رائٹس آرگنائزیشن‘ کے سربراہ لال گل لال نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’داعش‘ کے ریڈیو کے خلاف کارروائی ایک اہم پیش رفت ہے۔

’’میرے خیال میں یہ بڑی اہمیت کی بات ہے جو حکومت نے کارروائی کر کے اس کو تباہ کیا ہے۔ داعش افغان قوم کے لیے ایک نئی چیز ہے اور جو وہ کر رہے ہیں وہ ہماری ثقافت اور ہماری اسلامی اقدار کے مطابق نہیں ہے اس لیے سب لوگ داعش کے خلاف ہیں ۔۔۔۔۔ عوام کا حکومت سے مطالبہ تھا (کہ اسے ختم کیا جائے)۔‘‘

لال گل لال کا کہنا تھا کہ لڑائی میں پروپیگنڈہ اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس ریڈیو اسٹیشن کی وجہ سے ’داعش‘ کو اپنا موقف پھیلانے کا موقع مل رہا تھا۔

گزشتہ سال اس ریڈیو اسٹیشن کی نشریات افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ایک موبائل ٹرانسمیٹر سے شروع کی گئیں۔ پہلے یہ نشریات پشتو زبان میں تھیں جب کہ گزشتہ ہفتے ہی اس ریڈیو نے دری زبان میں بھی پروگرام پیش کرنا شروع کیے۔

روزانہ کی نشریات میں حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ، لوگوں کو داعش میں شمولیت کی دعوت، سرکاری ملازمین کے خلاف دھمکیاں اور اپنے جنگجوؤں کے انٹرویوز نشر کیے جاتے رہے۔

افغان حکومت کی طرف سے نشریات کو بند کرنے کے لیے کی جانے والی متعدد کوششیں مکمل طور پر بارآور ثابت نہیں ہو سکی تھیں۔ افغان عہدیداروں کے مطابق اس سے قبل کی جانے والی کارروائیوں سے ’داعش‘ کی ریڈیو نشریات دو بار کچھ عرصے کے لیے بند ہوئی تھیں۔

XS
SM
MD
LG