رسائی کے لنکس

لندن میں افغانی ملبوسات کی نمائش


لندن میں افغانی ملبوسات کی نمائش

لندن میں افغانی ملبوسات کی نمائش

گذشتہ دنوں لندن میں ہونے والے ایک فیشن شو میں جنگ زدہ افغانستان کا ایک نیا روپ اس وقت دیکھنے میں آیا ، جب روایتی افغانی لباس کو جدید دور کے فیشن اور تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرکے پیش کیا گیا۔ یورپ میں ان دنوں افغان ملبوسات کی مقبولیت میں اضافہ ہورہاہے۔

لندن کیٹ واک میں ہونے والی اس ماڈلنگ میں افغانستان کے پرانے رنگ نمایاں ہیں۔ ان کپڑوں کو جدید انداز میں یورپین مانگ کے مطابق بنایا گیا ہے۔

یہ کپڑے فرانس کے ایک بوتیک میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔ ان کپڑوں کی ڈیزائنر زلیخا شہر زاد کہنا ہے کہ وہ پرانے اور جدید طرز کے امتزاج سے کپڑے بناتی ہیں۔

زلیخا شہرزاد کہتی ہیں کہ ان کپڑوں میں جدت کے ساتھ ساتھ آپ کو روایتی انداز بھی ملے گا ۔ اور یہی اس لباس کی خوبصورتی ہے۔

شیر زاد نے چھ برس قبل ظریف ڈیزائنز کا آغاز کیا تھا۔ اور اب افغانستان میں پچاس خواتین ان کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ وہ ہاتھ سے کپڑوں پر افغانی کڑھائی کرتی ہیں۔

مانی سیرپل بوتیک کی منتظم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ شیر زاد کے بنائے ہوئے کپڑے جلدہی فروخت ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میرے خیال میں ہر کسی کو معلوم ہے کہ یہ لباس عام نہیں بلکہ خاص ہیں جنہیں افغانی خواتین ہاتھ سے رنگتی اور بناتی ہیں۔

ان کپڑوں پر ہاتھ سے کی گئی کڑھائی اور بُنائی انہیں یورپی منڈیوں میں بکنے والے کپڑوں سے زیادہ دلکش بناتی ہے۔ جو خریداروں کو حیران کرنے کے ساتھ ساتھ بہت متاثر بھی کرتی ہے۔

ایک خریدار کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان کے حوالے سے محض جنگ کی خبریں سنتے رہتے ہیں۔ یہ بہت اچھا ہے کہ ہمیں افغانستان کے بارے میں کچھ مثبت دیکھنے کو بھی ملے۔

لوگوں کا یہی ردعمل شیر زاد کا حوصلہ بڑھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک کسی بھی ایسے ملک میں جو بحران کی زد میں ہو اس قسم کی سرگرمیاں خاصی مثبت ہیں۔ جس سے چیزوں اور حالات کو بدلا جا سکتا ہے ، امید دی جا سکتی ہے۔ یہ افغانستان اور اس کے لوگوں کے لیے اہم وقت ہے کہ وہ دنیا میں اپنی پہچان بنائیں اور افغانستان کو دنیا سے مختلف انداز میں متعارف کرائیں۔

پیرس، دوبئی اور نیویارک کے بعد اب شیر زاد کے کپڑے لندن میں نمائش کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ انکے لیے اپنی کامیابی ایک خواب کی تعبیر کی طرح ہے۔

XS
SM
MD
LG