رسائی کے لنکس

افغانستان: حملوں میں پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

افغانستان کے مختلف علاقوں میں اتوار کو شدت پسندوں کے حملوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

طالبان جنگجوؤں نے ایک روز قبل یکم مئی سے افغانستان میں امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی افواج اور افغان حکام سمیت امن کونسلوں کے اراکین پر حملوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ ایک 12 سالہ خودکش حملہ آور نے پاکستانی سرحد سے ملحقہ پکتیکا صوبے کے ضلع برمل میں ایک دھماکا کیا جس سے چار شہری ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے۔

جنوب مغربی صوبے غزنی میں پولیس ہیڈکوارٹرز کے قریب ایک سائیکل پر نصب کردہ بم پھٹنے سے کم از کم 11 افراد زخمی ہو گئے۔

غزنی ہی میں ایک مسلح شخص نے ایک پولیس چوکی پر حملہ کر کے وہاں تعینات دو اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ اس کارروائی میں ایک راہ گیر زخمی بھی گیا۔

لوگر صوبے کے چارخ ضلع میں سڑک میں نصب بم پھٹنے سے ایک نجی محافظ ہلاک ہو گیا۔

قندھار شہر میں موٹرسائیکل پر سوار مسلح افراد نے ایک افغان فوجی کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

موسم بہار میں لڑائی میں متوقع اضافے کے پیش نظر اقوام متحدہ نے شہریوں کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔

افغانستان میں عالمی تنظیم کے اعلیٰ ترین عہدے دار اسٹیفن ڈی مستورا نے ہفتہ کے روز کہا کہ حکومت کی حامی فورسز اور طالبان شدت پسندوں ”پر لازم ہے کہ وہ شہری مقامات اور سرکاری عمارتوں، بازاروں اور پارکوں سمیت اُن مقامات پر حملے نا کریں جہاں شہری موجود ہوتے ہیں۔“

اقوام متحدہ کے مشن نے عسکریت پسندوں کو بارودی مواد کا بے دریغ استعمال نا کرنے اور افغان و اتحادی افواج کو فضائی حملوں اور رات میں کی جانے والی کارروائیوں سے قبل بہتر انداز میں منصوبہ بندی کی اپیل بھی کی ہے۔

XS
SM
MD
LG