رسائی کے لنکس

القاعدہ کے مفرور رہنما اسامہ بن لادن نے فرانس کے سات مغوی باشندوں کی رہائی کو افغانستان سے فرانسیسی فوج کی واپسی سے مشروط کیا ہے۔

عرب نیوز چینل الجزیرہ نے جمعہ کے روز اسامہ بن لادن کا ایک آڈیو پیغام نشر کیا ہے جس میں بظاہر القاعدہ کے رہنما کی آواز میں کہا گیا ہے کہ فرانس کے صدر نیکولا سارکوزی نے افغانستان میں موجود اپنے ملک کی افواج کی واپسی سے انکار کر کے، اُن کے بقول یہ پیغام دیا ہے کہ مغوی فرانسیسی باشندوں کو قتل کر دیا جائے۔

القاعدہ کے سربراہ کی دھمکی کے باوجود فرانس نے کہا ہے کہ وہ افغانستان سے اپنی فوجوں کو واپس نہیں بلائے گا۔

پیرس میں وزارت خارجہ کے ترجمان برنارڈ والیرو نے صحافیوں کو بتایا کہ فرانسیسی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہرممکن کوششیں کی جارہی ہیں لیکن افغانستان میں اتحادیوں کے ساتھ مل کر فرانس افغان عوام کے حق میں اپنا مشن جاری رکھے گا۔

اس وقت کم از کم سات فرانسیسی باشندے القاعدہ کی حمایت یافتہ انتہا پسند تنظیموں کی تحویل میں ہیں، جن میں سے پانچ نائجر اور دو افغانستان میں موجود ہیں۔

اسامہ بن لادن کا تازہ پیغام اُن کی طرف سے جاری کیا گیا دوسرا بیان ہے جس میں نا صرف فرانس کی حکمت عملی بلکہ اس کی افغانستان میں موجودگی کو مغوی فرانسیسی باشندوں سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس سے قبل اکتوبر 2010ء میں منظر عام پر آنے والے پیغام میں اسامہ بن لادن نے فرانس میں خواتین کے برقعہ پہننے پر پابندی کے فیصلے پر شدید تنقید کی تھی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ القاعدہ نے نیٹو کے رکن فرانس کی حدود میں تاحال کوئی کارروائی نہیں کی ہے جب کہ برطانیہ اور سپین کی سرزمین پر حملے کیے جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG