رسائی کے لنکس

امن عمل میں حقانی نیٹ ورک کی شمولیت پر امریکہ اور نیٹو کی متضاد رائے


امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل راسموسن (فائل فوٹو)

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل راسموسن (فائل فوٹو)

افغانستان میں مصالحت اور امن کی کوششوں میں عسکریت پسند گروپ حقانی نیٹ ورک کے کردار کے مستقبل کے بارے میں امریکہ اور افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کی طرف سے بظاہر متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔

بدھ کو کابل میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیٹو کے ترجمان بریگیڈئر کارسٹن جیکبسن نے کہا کہ اتحادی افواج پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان رابطے سے بخوبی آگاہ ہے اور یہ امر اُن کے لیے باعث تشویش ہے۔ ’’کسی بھی دہشت گرد تنظیم، خواہ وہ پاکستان میں ہو یا افغانستان میں، سے ایسے رابطوں کی کوئی بھی حمایت نہیں کرتا۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے جیسے پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ’’یہ (حقانی نیٹ ورک) افغانستان اور پاکستان دونوں کا خطرناک دشمن ہے۔‘‘

نیٹو کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف نیٹو کی لڑائی میں حمایت کرنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔

لیکن اتحادی افواج کے اس تنقیدی بیان سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے یہ عندیہ دیا کہ امریکہ حقانی نیٹ ورک سے امن معاہدے کے لیے اب بھی تیار ہے۔

’’حقانیوں اور دیگر ایسے لوگوں کو امریکہ اب بھی اپنے مخالفین کے طور پر دیکھتا ہے لیکن ہم آگے بڑھنے کے کسی راستے کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کر رہے۔‘‘

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی قومی اسمبلی کی خارجہ اُمور کمیٹی کی رکن اور پیپلز پارٹی کی ایک رہنما پلوشہ بہرام نے امریکی وزیر خارجہ کے بیان کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ ’’خود اُنھوں نے اس بات کا ادراک کیا ہے کہ وہ اس گروہ سے ہاتھ ملا کر افغان امن عمل کو آگے بڑھا سکتے ہیں اور خطے میں استحکام قائم کر سکتے ہیں۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ ہلری کلنٹن کے بیان سے امن و مفاہمت کے لیے تمام عسکری تنظیموں سے مذاکرات کرنے کے پاکستان کے موقف کی بھی تائید ہوئی ہے۔

آئی ایس آئی کے سابق بریگیڈئیر اسد منیر نے امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی طرف سے حقانی نیٹ ورک سے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کے اشارے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا مقصود ہو سکتا ہے کہ بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں ویسی خانہ جنگی شروع نہ ہو جائے جو روسی افواج کے نکل جانے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ ’’امریکہ کے اس موقف کی بظاہر وجہ برہان الدین ربانی کا قتل بھی ہو سکتا ہے کیوں کہ اُن کے جانے کے بعد امن بات چیت کی کوششوں کا عمل رک چکا ہے۔‘‘

افغانستان میں اتحادی افواج پر مہلک حملوں میں ملوث حقانی نیٹ ورک حالیہ دنوں میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی کی بظاہر ایک بڑی وجہ بنا ہوا ہے کیونکہ اعلٰی امریکی حکام کا الزام ہے کہ طالبان کی حامی اس عسکری تنظیم کو نا صرف پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس کی پشت پناہی حاصل ہے بلکہ اس کے جنگجو شمالی وزیرستان میں اپنی پناہ گاہوں کو سرحد پار حملوں کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

پاکستانی سویلین و فوجی حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور ان کے موقف رہا ہے کہ افغانستان اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر گروپ سے بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی امریکی ایلچی مارک گراسمن رواں ہفتے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جہاں پاکستانی قائدین کے ساتھ ان کی بات چیت میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی کے علاوہ حقانی نیٹ ورک کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔

XS
SM
MD
LG