رسائی کے لنکس

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اب تک ایسے پانچ واقعات میں سات امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

افغانستان میں اتحادی افواج پر مقامی ساتھیوں کی طرف سے رواں ماہ ہونے والے پانچویں حملے میں دو غیر ملکی فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔

نیٹو اور افغان حکام نے بتایا کہ یہ واقعہ مشرقی ننگرہار صوبے میں پیر کو پیش آیا، جہاں ضلع اچن میں ایک مقامی پولیس اہلکار اتحادی فوجیوں پر اچانک فائرنگ کرکے فرار ہو گیا۔

حملے کا نشانہ بننے والے غیر ملکیوں کی شہریت کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے، مگر پاکستان سے ملحق اس صوبے میں زیادہ تر امریکی فوجی تعینات ہیں۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اب تک ایسے پانچ واقعات میں اب تک سات امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

نیٹو افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل گنٹر کاٹز نے کابل میں صحافیوں کو بتایا کہ رواں سال اب تک افغان سکیورٹی فورسز یا اُن کی وردی میں ملبوس طالبان باغی اتحادی افواج پر 27 حملے کر چکے ہیں جو مجموعی طور پر 37 غیر ملکی اہلکاروں کی ہلاکت کا باعث بنے۔

ترجمان نے کہا کہ نیٹو کے فوجی ماہرین افغان حکام کے ساتھ مل کر ان واقعات کے سدِباب کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ مقامی حکام نے افغان اہلکاروں کی بھرتی کے لیے جانچ پڑتال کا ایک آٹھ نکاتی عمل تجویز کیا ہے تاکہ مستقبل میں جرائم پیشہ اور مشتبہ درخواست گزاروں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

اُن کے بقول نیٹو حکام نے غیر ملکی فوجیوں کو افغان رسم و رواج اور طور طریقوں سے بہتر انداز میں روشناس کرانے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے، کیوں کہ ذاتی رنجش اور تھکن بیشتر حملوں کی وجہ بنے ہیں۔

افغانستان کے لیے امریکہ کے نئے سفیر جیمز کنگھم نے پیر کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد کابل میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیٹو اہلکاروں پر افغان ساتھیوں کی طرف سے بڑھتے ہوئے حملوں کو ’’تشویش ناک اور درد ناک‘‘ قرار دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ان واقعات کی روک تھام کے لیے امریکہ افغان حکام کے ساتھ مل کر کام کرے گا، لیکن یہ ملک میں عمومی حالات کی عکاسی نہیں کرتے جہاں اس وقت مجموعی طور پر پانچ لاکھ افغان فوجی اتحادی افواج کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن و سلامتی کے لیے کوشاں ہیں۔
XS
SM
MD
LG