رسائی کے لنکس

افغان امریکہ شراکت داری کے مستقبل پر غور کے لیے کابل میں لویہ جرگہ

  • یاسر منصوری

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

افغانستان میں بدھ کو روایتی قبائلی مجلس، یا لویہ جرگہ، ہو رہا ہے اور مبصرین نے کہا ہے کہ اس میں مختلف دھڑوں کے نمائندہ رہنماؤں کے مابین تلخ بحث متوقع ہے۔

کابل کی ایک یونیورسٹی کے میدان میں نصب کیے گئے بڑے خیمے میں منعقد ہونے والے اجلاس کا بنیادی مقصد 2014ء کے اختتام تک ملک سے بین الاقوامی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں امریکہ کے کردار سے متعلق مجوزہ اسٹریٹیجک معاہدے پر تبادلہ خیال اور مختلف نقطہ ہائے نظر رکھنے والے عمائدین اور غیر ملکی قائدین کی مشاورت سے جامع حکمت عملی پیش کرنا ہے۔

لیکن افغان تجزیہ نگار عمر شریفی کا کہنا ہے کہ مجوزہ دوطرفہ معاہدے کی تفصیلات منظر عام پر آنے سے قبل لویہ جرگہ بلانا بظاہر ایک ’’قبل از وقت‘‘ کارروائی ہے۔

عمر شریفی نے وائس آف امریکہ (وی او اے) سے گفتگو میں کہا ’’افغان امریکہ معاہدے کے خد و خال سے عدم واقفیت کے باعث اس کے بارے میں افغانوں کے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ لویہ جرگہ بذات خود ایک انتہائی اچھا اقدام ثابت ہوتا اگر ہم اسٹریٹیجک معاہدے پر دستخط کر چکے ہوتے۔‘‘

افغان صدر حامد کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی



ناقدین کے خیال میں بظاہر اس مبہم صورت حال میں صدر کرزئی کی جانب سے لویہ جرگہ بلانے کا مقصد حساس نوعیت کے اس قومی معاملے پر افغان روایت کا ’’متنازع‘‘ استعمال کر کے کابل اور واشنگٹن کے درمیان مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے غیر منتخب رہنماؤں کی حمایت حاصل کرنا اور پارلیمان میں اس اقدام کی ممکنہ مخالفت سے دور رہنا ہے۔

افغانستان میں اپوزیشن سیاست دان بشمول سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ کا ماننا ہے کہ لویہ جرگہ ملک کے آئین سے متصادم ہے اور پارلیمان کی موجودگی میں اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

توقع ہے کہ اجلاس میں شامل لگ بھگ 2,000 افغان عمائدین اور رہنما ملک میں جاری طالبان بغاوت کے خاتمے کے لیے شدت پسندوں اور دیگر گروہوں سے مفاہمت کی کوششوں کے علاوہ اس عمل میں پاکستان کے ممکنہ کردار پر بھی بحث کریں گے۔

عمومی تاثر ہے کہ افغان صدر کے تشکیل کردہ مصالحتی کمیشن کے سربراہ سابق صدر برہان الدین ربانی کی ستمبر میں ایک خودکش حملے میں ہلاکت کے بعد مفاہمت کی کوششیں ماضی کی طرح جاری نہیں رہ سکیں گی اور اس کا عندیہ خود صدر کرزئی بھی دے چکے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ پیغام رساں کے روپ میں خودکش بمباروں سے امن بات چیت ممکن نہیں۔

اُنھوں نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ برہان الدین ربانی پر قاتلانہ حملے کی سازش پاکستان میں تیار ہوئی تھی جب کہ اس کی خفیہ ایجنسی افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج پر حملوں میں ملوث طالبان کے خطرناک حقانی نیٹ ورک کی پشت پناہی بھی کر رہی ہیں۔

مبصرین کے خیال میں آئندہ افغان مصالحتی عمل میں پاکستان کا تعاون ضرور حاصل کیا جائے گا لیکن افغان حکام عسکریت پسندوں کی اعلیٰ قیادت سے براہ راست بات چیت کی کوششوں کی بجائے توجہ مقامی سطح پر سرگرم عسکری عناصر پر مرکوز کرنے کو ترجیح دیں گے۔

پاکستانی عہدے داروں اور اراکین پارلیمان کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک افغانستان میں امن و استحکام کے سلسلے میں افغانوں کی قیادت میں کی جانے والی ہر کوشش کی حمایت کرنے کو تیار ہے لیکن کابل کی طرف سے اسلام آباد پر سرحد پار شورش کے الزامات کا سلسلے بند ہونا چاہیئے۔

ملک عماد خان

ملک عماد خان

حکمران پیپلز پارٹی کے رکن اور سابق وزیر مملکت برائے خارجہ اُمور ملک عماد خان نے وی او اے سے گفتگو میں بتایا کہ افغان الزامت کے جواب میں پاکستان بھی ہمسایہ ملک پر قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کی فوج اور حکومت مخالف کارروائیوں میں مدد دینے کے الزامات لگا سکتا ہے لیکن اس سے کسی فریق کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔

کابل میں ہونے والے لویہ جرگہ کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ محض اجلاسوں میں بات چیت سے کوئی تنائج حاصل نہیں ہوں گے اور اس کے لیے عملی اقدامات نا گزیر ہیں۔

ملک عماد کے مطابق طالبان بغاوت کے خاتمے کے لیے افغانستان میں منشیات کی کاشت اور اسمگلنگ پر قابو پانا انتہائی اہم ہے کیوں کہ اگر اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا محض 10 فیصد بھی پرتشدد کارروائیوں میں استعمال ہوتا ہے تو یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔

’’ایک طویل عرصے سے افغانوں کو (بین الاقوامی برادری) اگلی پکڑ کر چلا رہی ہے۔ اب یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیئے کیوں کہ بل آخر یہ اُن کا ملک ہے اور اُنھیں اپنے معاملات کو خود درست کرنا ہو گا۔‘‘

XS
SM
MD
LG