رسائی کے لنکس

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے جرمنی میں پیر سے شروع ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کے شرکاء سے اپیل کی ہے کہ غیر ملکی لڑاکا افواج کے انخلا کے بعد بھی مستحکم مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ 10 سال تک ان کے ملک کی اقتصادی اور فوجی امداد کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔

افغان صدر نے یہ اپیل ایک جرمن جریدے کو دیے گئے انٹرویو کے ذریعے کی ہے جس کی تفصیلات اتوار کے روز شائع کی گئی ہیں۔

’’افغانستان کو یقیناً 2024ء تک مدد درکار ہوگی۔ ہمیں اپنے فوجیوں کے لیے تربیت کی ضرورت ہوگی جب کہ فوج اور پولیس کے علاوہ اپنے اداروں کی تعمیر کے لیے بھی ہمیں آلات و سامان کی ضرورت ہو گی۔‘‘

افغان صدر نے متنبہ کیا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی میں شکست کسی کے مفاد میں نہیں ہو گی۔ ’’اگر ہم یہ جنگ ہار جاتے ہیں تو خطرہ ہے کہ ہم نائن الیون سے پہلے کے حالات سے دوچار ہو جائیں گے۔‘‘

صدر کرزئی کا اشارہ بظاہر افغانستان میں طالبان کے دور حکومت کی طرف تھا۔ اُنھوں نے افغانستان میں مفاہمت کے فروغ کے لیے ہمسایہ ملک پاکستان کی طرف سے عدم تعاون پر بھی تنقید کی ’’تاحال وہ (پاکستان) طالبان کی قیادت کے ساتھ بات چیت میں مدد سے انکاری ہے۔‘‘

مزید برآں اُنھوں نے کہا کہ بعض لوگ افغانستان میں طالبان کا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے حامی ہیں۔ ’’اگر اس پالیسی میں تبدیلی نہیں آتی تو مذاکرات کبھی بھی نہیں ہوں گے۔‘‘

افغانستان کے مستقبل کے بارے میں جرمنی کے شہر بون میں ہونے والی اپنی نوعیت کی یہ دوسری کانفرنس ہے۔ اس سلسلے کا پہلا اجلاس 10 سال قبل اُس وقت ہوا تھا جب امریکہ اور اتحادی افواج نے حملہ کر کے طالبان کو اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا اور اُس وقت بون کانفرنس کے شرکاء نے کابل میں حامد کرزئی کی سربراہی میں عبوری افغان انتظامیہ کی منظوری دی تھی۔

عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کےمطابق افغان حکومت کو اپنے فوجیوں اور پولیس کی تنخواہوں سمیت دیگر اخراجات کی مد میں ادائیگیوں کے لیے طویل مدت تک سالانہ 7 ارب ڈالرز درکار ہوں گے۔

2014ء کے اواخر تک جنگ سے تباہ حال ملک سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں سلامتی کی صورت حال کے بارے میں پائی جانے والی تشویش، اکثر افغانوں کو درپیش غربت کا مسئلہ اور منشیات کی پھلتی پھولتی تجارت کے تناظر میں بون کانفرنس کے شرکاء میں زیادہ گرم جوشی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔

مزید برآں نیٹو حملے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پاکستان کی طرف سے اس بین الاقوامی اجلاس کا بائیکاٹ بون کانفرنس کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

XS
SM
MD
LG