رسائی کے لنکس

طالبان کے ہاتھوں تین افغان بچے ہلاک: نیٹو


طالبان کے ہاتھوں تین افغان بچے ہلاک: نیٹو

طالبان کے ہاتھوں تین افغان بچے ہلاک: نیٹو

افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج نے کہا ہے کہ ملک کے شمالی حصے میں منگل کو ایک طالبان رہنما کے خلاف اتحادی اور افغان فورسز کی مشترکہ کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے ہاتھوں تین بچے ہلاک ہو گئے۔

نیٹو کے ایک بیان کے مطابق شمالی صوبے فریاب میں پیش آنے والے اس واقعے میں چار دیگر خواتین اور بچوں کے علاوہ پانچ فوجی بھی زخمی ہوئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان شدت پسندوں نے اُس مکان کے احاطے میں ایک دستی بم پھینکا جس میں اتحادی افواج نے خواتین اور بچوں کو لڑائی سے محفوظ رکھنے کے لیے جمع کر رکھا تھا۔

مواصلات سے متعلق نیٹو کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف ریئر ایڈمرل ہال پِٹمین کے بقول ”یہ (واقعہ) ایک اور مثال ہے کہ شدت پسند دانستہ طور پر افغان شہریوں کو قتل کر رہے ہیں۔“

افغانستان میں جاری جنگ کے بارے میں ایک تازہ جائزے میں اقوام متحدہ نے سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں شہری ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ گذشتہ سال اگرچہ اتحادی افواج کی کارروائیوں میں افغان شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا لیکن زیادہ تر ہلاکتوں کے ذمہ دار طالبان تھے۔

طالبان کے ہاتھوں تین افغان بچے ہلاک: نیٹو

طالبان کے ہاتھوں تین افغان بچے ہلاک: نیٹو

دریں اثنا تشدد کے ایک اور واقعہ منگل کو جنوبی صوبہ قندھار میں پیش آیا جہاں سڑک کے کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے پوست کی فصل تلف کرنے پر معمور دو پولیس اہلکار ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔

موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی جنوبی افغانستان میں پوست کی فصل تیار ہونے کو ہے، اور پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک انسداد منشیات کے اہلکار تقریباً تین ہزار ایکڑ پر کھڑی فصل کو تلف کر چکے ہیں۔

جنوبی افغانستان میں بڑے پیمانے پر پوست کی کاشت کی جاتی ہے اور اس فصل سے حاصل ہونے والی افیون، خاص طور پر ہیروئن، کو پاکستان اور ایران کے راستے مشرق وسطیٰ اور مغربی ممالک کو اسمگل کیا جاتا ہے۔

مغربی فوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ منشیات کے اس غیر قانونی کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی افغانستان میں طالبان جنگجوؤں کی کارروائیوں کے لیے بھی استعمال ہو رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG