رسائی کے لنکس

وردک صوبے میں نیٹو کے ایک اڈے پر کام ختم کرکے گھر واپس جانے والے چھ افغانوں کو شدت پسندوں نے گرفتار کر لیا تھا۔

افغانستان میں حکام نے کہا ہے کہ طالبان باغیوں نے بین الاقوامی افواج کے لیے کام کرنے کی پاداش میں پانچ افغان شہریوں کو قتل کر دیا ہے۔

دارالحکومت کابل کے مضافاتی علاقوں میں حالیہ دنوں میں عسکریت پسندوں نے تسلسل کے ساتھ ایسی کارروائیاں کی ہیں۔

مرکزی وردک صوبے کے ضلع جلریز میں پیش آنے والے اس واقعہ سے ایک روز قبل طالبان نے کابل کے جنوب میں دو افغان مردوں کو اغوا برائے تاوان کے جرم میں سرعام چالیس, چالیس کوڑے لگائے تھے جب کہ دو ہفتے قبل دارالحکومت کے شمال میں ایک خاتون کو زنا کاری کے جرم میں سرعام قتل کر دیا گیا تھا۔

صوبائی گورنر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نیٹو کے اڈے پر کام ختم کرکے گھر واپس جانے والے چھ افغانوں کو شدت پسندوں نے گرفتار کر لیا تھا اور ان میں سے بارودی مواد میں لپٹی پانچ کی لاشیں اتوار کو ملیں جب کہ چھٹا شخص فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سب کے ہاتھ کمر کے پیچھے بندھے ہوئے تھے۔

حکام نے طالبان پر اس قتل کی ذمہ داری عائد کی ہے جو زیادہ تر ملک کے جنوبی اور مشرقی صوبوں میں سرگرم عمل ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو میں طالبان باغیوں کو کابل کے شمال میں صوبہ پروان میں ایک 22 سالہ خاتون کو کمر میں گولیاں مارتے اور مردوں پر مشتمل ہجوم کو اس پر تالیاں بجاتے دیکھایا گیا تھا۔ اس واقعہ پر عالمی برادری کی طرف سے شدید مذمت کی گئی۔
XS
SM
MD
LG