رسائی کے لنکس

اسلامی تحریک اُزبکستان کا اہم رہنما گرفتار: نیٹو


اسلامی تحریک اُزبکستان کا اہم رہنما گرفتار: نیٹو

اسلامی تحریک اُزبکستان کا اہم رہنما گرفتار: نیٹو

افغانستان میں نیٹو اور افغان افواج نے ایک مشترکہ آپریشن کر کے شدت پسند اسلامک موومنٹ آف اُزبکستان (آئی ایم یو) یا اسلامی تحریک اُزبکستان کے سینیئر رہنما کو دوساتھیوں سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پیر کو کابل میں ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیٹو کے ترجمان جنرل جوزف بلاٹز نے بتایا کہ آپریشن شمالی قندوز صوبے کے خانہ آباد ضلع میں 20 اپریل کو کیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ زیر حراست رہنما پاکستان میں موجود آئی ایم یو کی اعلیٰ قیادت اور افغانستان میں طالبان کی قیادت کے درمیان ایک اہم رابطہ ہے۔

”وہ دونوں ملکوں کے درمیان عسکریت پسندوں کو تربیت دینے اور کارروائیوں کی رہنمائی میں طالبان اور آئی ایم یو کی مدد کر رہا تھا۔ وہ شمالی افغانستان میں اتحادی اور افغان افواج کے خلاف خودکش اور دیگر بم دھماکوں کے علاوہ مارٹر حملوں کی تنظیم میں بھی ملوث تھا۔“

ترجمان نے کہا کہ اس آپریشن کے دو روز بعد 22 اپریل کو خوست صوبے میں حقانی نیٹ ورک کے تین اہم کمانڈروں کو ایک مشترکہ کارروائی کر کے ہلاک کردیا گیا۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ جنوری سے اب تک 50 سے زائد حقانی نیٹ ورک کے رہنماؤں کو ہلاک یا گرفتار کیا جا چکا ہے۔

جنرل بلاٹز نے کہا کہ اسلامی تحریک اُزبکستان اور حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کے خلاف آپریشنز اُس وسیع مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد افغانستان میں شدت پسندوں کے نیٹ ورک کو ختم کر کے اُنھیں شکست دینا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پچھلے تین ماہ کے دوران 450 سے زائد عسکریت پسند رہنماؤں کو ہلاک یا گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ دو ہزار سے زائد دیگرعام جنگجوؤں کو گرفتار اور 500 کو ہلاک کیا گیا ہے۔

نیٹو کے ترجمان نے کہا کہ اس سال کے آغاز سے اب تک شہری اہداف پر 30 سے زائد خودکش حملے کیے جا چکے ہیں جن کا مقصد افغان عوام میں خوف وہراس پھیلانا ہے۔ اُنھوں نے متنبہ کیا کہ آنے والے دنوں میں اہم اہداف پر عسکریت پسندوں کے حملوں میں شدت آنے کا امکان ہے۔

XS
SM
MD
LG