رسائی کے لنکس

بین الاقوامی افواج نے ایک روز قبل شمالی افغانستان میں ایک عوامی تفریح گاہ پر بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس میں تین امریکی اور چار افغان فوجیوں سمیت کم از کم 13 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

جمعرات کو کابل میں جاری ہونے والے ایک بیان میں غیر ملکی افواج کے امریکی کمانڈر جنرل جان ایلن نے کہا ہے کہ نسبتاً پُرامن فریاب صوبے کے انتظامی مرکز میمینہ میں ایک پارک میں دیسی ساختہ بم سے کیے گئے دھماکے میں چھ افغان شہری بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ درجنوں دیگر شہری، افغان اہلکار اور اتحادی فوجی اس واقعے میں زخمی بھی ہوئے۔

’’قابل نفرت ہی وہ واحد لفظ ہے جو شہریوں کے ایک بڑے ہجوم میں امن کے دشمنوں کا اس بے رحمی سے بم دھماکا کرنے کی کارروائی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔‘‘

اپنے بیان میں امریکی کمانڈر نے اس واقعے میں مرنے والوں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد مکمل صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔ اُنھوں نے اس موقعے پر افغانستان میں امن و استحکام کی کوششوں میں افغانوں کے ساتھ طویل المدت شراکت داری کے عزم کو بھی دہرایا۔

افغانستان کے فریاب صوبے میں ہونے والے بم دھماکے کی نوعیت کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں متضاد بیانات سامنے آئے تھے اور اکثر میں اسے موٹر سائیکل پر سوار خودکش بمبار کی کارروائی قرار دیا گیا تھا۔

تاہم نیٹو افواج کے تازہ بیان سے واضح ہو گیا ہے کہ بم پہلے سے اُس مقام پر نصب تھا جہاں لوگوں کا ہجوم متوقع تھا۔

XS
SM
MD
LG