رسائی کے لنکس

افغان فورسز کی صلاحیت سے متعلق خدشات


افغان فورسز کی صلاحیت سے متعلق خدشات

افغان فورسز کی صلاحیت سے متعلق خدشات

افغانستان میں مقامی سکیورٹی فورسز گذشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران عدم توجہی کا شکار رہی ہیں جس کے باعث اُن کے 2014ء کے اختتام تک غیر ملکی افواج سے سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

اس تشویش کا اظہار انسانی حقوق کی علم بردار برطانوی تنظیم ’اوکسفیم‘ نے تین دیگر تنظیموں کی معاونت سے مرتب کی گئی ایک رپورٹ میں کیا ہے جس کا اجراء منگل کو کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز کی استعداد میں اضافے اور اُن کے احتساب سے متعلق سنجیدہ کوششوں کا آغاز 2009ء میں کیا گیا۔ ”ابھی زیادہ تاخیر نہیں ہوئی ہے لیکن اس بارے میں موثر اقدامات افغان اور بین الاقوامی سویلین و عسکری قیادت کی جانب سے حقیقی قوت ارادی کی عدم موجودگی میں ناممکن ہوں گے۔“

سال 2010ء کے اواخر میں نیٹو کے سربراہ اجلاس میں طے پانے والے منصوبے کے تحت افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے تمام لڑاکا دستوں کا انخلاء 2014ء کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق اس وقت افغانستان میں لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ غیر ملکی فوجی موجود ہیں جب کہ افغان فوجی و پولیس اہلکاروں کی تعداد دو لاکھ 85 ہزار ہے جس کو اکتوبر تک تین لاکھ سے زائد کرنے کا منصوبہ ہے۔

امریکی اور نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافے سے متعلق اہداف حاصل ہو رہے ہیں تاہم اُنھوں نے اعتراف کیا کہ اہلکاروں کا ڈیوٹی سے بھاگ جانا ایک بڑا مسئلہ ہے۔

مزید برآں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں باعث تشویش ہیں۔

رواں سال اقوام متحدہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں 2010ء کو افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ہلاکت خیز سال قرار دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال 2,777 افغان شہری ہلاک ہوئے جوکہ 15 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تین چوتھائی شہری ہلاکتوں کا ذمہ دار شدت پسندوں کو ٹھہرایا گیا تھا۔

اوکسفیم نے منگل کو جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2010ء کے دوران 10 فیصد شہری ہلاکتوں کی ذمہ دار افغان نیشنل سکیورٹی فورسز تھیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار افغان سکیورٹی فورسز کی وجہ سے شہریوں کو پہنچنے والے تمام نقصانات کی منظر کشی نہیں کرتے۔

رپورٹ میں افغان فورسز پرانسانی حقوق کی جن خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے اُن میں رات میں شدت پسندوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کے بارے میں ناکافی منصوبہ بندی، بچوں پر جنسی تشدد اور دوران حراست قیدیوں سے بد سلوکی سر فہرست ہیں۔

XS
SM
MD
LG