رسائی کے لنکس

افغانستان کا پاکستان کو انتباہ


پاک افغان صدور کی ملاقات سعودی عرب میں ہوئی

پاک افغان صدور کی ملاقات سعودی عرب میں ہوئی

صدر حامد کرزئی نے انتباہ کیا کہ ان حملوں کے نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ افغان عوام کے احساسات پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

صدر حامد کرزئی نے انتباہ کیا ہے کہ افغان علاقوں پر سرحد پار سے بمباری کا سلسلہ جاری رہا تو پاکستان کے لیے ’’اچھا نہیں ہوگا‘‘۔

اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے مکہ میں ہونے والے اجلاس کے موقع پر افغان رہنما کی پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری سے ملاقات کی تفصیلات افغان حکومت نے بدھ کو ایک باضابطہ بیان کے ذرئعے جاری کیں جن کے مطابق بات چیت میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ اور دوطرفہ تعلقات سے متعلق دیگر اُمور زیر بحث آئے۔

کابل میں صدارتی ترجمان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر کرزئی نے مسٹر زرداری کی توجہ افغان علاقوں پر پاکستانی فوج کی مبینہ بمباری کی طرف مبذول کرواتے ہوئے اس کی فوری بندش کا مطالبہ کیا۔

حامد کرزئی نے انتباہ کیا کہ ان حملوں کے نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ افغان عوام کے احساسات پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے فوجی حکام پر مشتمل ایک مشترکہ وفد کو پاک افغان سرحد کا دورہ کرکے حالیہ بمباری کے واقعات کی مفصل تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صدر زرداری نے مکمل سنجیدگی کے ساتھ جلد سے جلد اس معاملے پر پیش رفت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

افغان حکام کے بقول پاکستانی وفد نے بھی بات چیت میں افغان صدر کو سرحد پر ہونے والی حالیہ سرگرمیوں کے بارے میں اپنی تشویش سے آگاہ کیا تاہم بیان میں اس کی مزید تفصیلات بیان نہیں کی گئی ہیں۔

اسلام آباد میں پاکستانی صدر کے ایک ترجمان نے بھی منگل کی شب ہونے والی اس ملاقات کی تفصیلات جاری کی تھیں تاہم اُن معاملات کا کوئی تذکرہ نہیں ہے جن کی نشاندہی صدر کرزئی نے کی ہے۔

اسلام آباد میں ایوان صدر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا جس میں صدر زرداری نے افغان ہم منصب کو افغانستان میں امن و استحکام اور ترقی کی کوششوں میں پاکستان کی حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کی بنیادی وجہ وہ مفرور جنگجو ہیں جنھوں نے فوجی آپریشن سے بھاگنے کے بعد مبینہ طور پر افغان سرحدی علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے جہاں سے وہ پاکستانی اہداف پر حملے کرتے ہیں۔

پاکستانی حکام کے بقول گزشتہ ایک سال کے دوران ایک درجن سے زائد ایسے حملوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت سرحدی محافظوں کی ہے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ بمباری کا نشانہ یہ حملہ آور ہوتے ہیں نہ کا افغان علاقے، البتہ غلطی سے گولہ سرحد پار گرنے کے امکان کو وہ رد نہیں کرتے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG