رسائی کے لنکس

افغانستان: فرخندہ کے قتل کے چار مجرموں کی سزائے موت منسوخ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بعض قانون سازوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت بظاہر بنیاد پرست مذہبی حلقوں کے دباؤ میں آگئی اور قانون کی بالادستی قائم رکھنے میں ناکام رہی۔

افغانستان کی ایک عدالت نے کابل میں ہجوم کے ہاتھوں قتل کی جانے والی خاتون کے مقدمے میں سزائے موت کے مرتکب چار مجرموں کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

پہلے فیصلے پر نظر ثانی کرنے والی عدالت کے جج عبدالناصر مرید نے اپنے فیصلے میں سزائے موت کی جگہ تین مجرموں کو 20، 20 سال جب کہ ایک کو دس سال قید کی سزا سنائی۔

فرخندہ ملکزاد کو مارچ میں کابل میں ایک مزار کے قریب مشتعل ہجوم اس بنا پر تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا تھا کہ اس نے مبینہ طور پر قرآن کی بے حرمتی کی تھی۔

یہ سماعت بند کمرے میں ہوئی، افغانستان کے مقامی میڈیا نے خبر دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اس مقدمے میں مزار کے اس مجاور کو بری کر دیا جس نے مبینہ طور پر خاتون کی طرف سے قرآن کی بے حرمتی کے جھوٹا الزام لگا کر ہجوم کو بھڑکایا تھا۔

اس عدالتی فیصلے سے متعلق فرخندہ کے اہل خانہ شدید برہم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اب تک انصاف کے منتظر ہیں۔

بعض قانون سازوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت بظاہر بنیاد پرست مذہبی حلقوں کے دباؤ میں آگئی اور قانون کی بالادستی قائم رکھنے میں ناکام رہی۔

خبر رساں ایجنسی "ایسوسی ایٹد پریس" کے مطابق قانون ساز اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی شکریہ بارکزئی کہتی ہیں کہ " یہ آئین کے خلاف ہے۔ بند کمرے میں ہونے والی سماعت سے ان سزاؤں کے قابل اعتبار ہونے پر سوالیہ نشانہ کھڑے ہوئے ہیں۔"

فرخندہ کی موت کے بعد ملک میں نظام انصاف اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے اصلاحات کے مطالبات میں اضافہ ہوا۔

قرآن کی مبینہ بے حرمتی پر ہجوم نے فرخندہ کو پہلے زدو کوب کیا اور پھر اس پر مزید وحشیانہ تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اسی ہجوم نے دریائے کابل کے کنارے پر اس خاتون کی لاش کو نذر آتش کر دیا تھ۔

اس سارے واقعے کی بہت سے لوگوں نے عکسبندی بھی کی اور یہ مناظر سوشل میڈیا پر جاری کر دیے گئے۔

گزشتہ ماہ ایک عدالت نے اس مقدمے میں 49 ملزمان میں سے 37 کو رہا کر دیا تھا۔ ملزمان میں 19 پولیس اہلکار بھی شامل تھے جن پر فرائض میں غفلت برتنے کا الزام تھا۔

XS
SM
MD
LG