رسائی کے لنکس

پاک افغان سیاسی و اقتصادی رابطوں کو وسعت دینے پر اتفاق


پاک افغان سیاسی و اقتصادی رابطوں کو وسعت دینے پر اتفاق

پاک افغان سیاسی و اقتصادی رابطوں کو وسعت دینے پر اتفاق

افغان وزیر خارجہ زلمے رسول نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ دونوں ملک ایک بھرپور اعتماد کی فضا میں تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ دونوں وزراء کا کہنا تھا کہ بات چیت کا ایک اور بنیادی مقصد آئندہ ماہ واشنگٹن میں ہونے والے سہہ فریقی اجلاس کی تیاری بھی تھا۔ وزیر خارجہ قریشی نے کہا کہ ماضی میں امریکہ، پاکستان اور افغانستان کی افواج اور خفیہ ایجنسیوں کے درمیان تعاون جاری تھا لیکن سیاسی رابطے بھی قائم کرنے کی ضرورت تھی جس پر اب اتفاق ہو گیا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اُن کے افغان ہم منصب زلمے رسول نے کہا ہے کہ دونوں ہمسایہ ملکوں نے اقتصادی و سیاسی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے بعض نئے اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے جن سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ دونوں ملکوں نے حال ہی میں صلاح مشوروں کے ایک نئے عمل کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد مشترکہ اہداف کا حصول ہے اور ان رابطوں سے دوطرفہ اعتماد کی فضا بھی بہتر ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی تجارت کی وزارتوں کے عہدے داروں پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو جلد اسلام آباد میں اجلاس کرے گا اور جس کا کام افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کے نفاذ کے عمل کی نگرانی ہو گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن اور افغانستان کی اقتصادی وزارت کے درمیان بھی رابطوں کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا مقصد وزیر خارجہ قریشی کے بقول توانائی، زراعت، معدنیات، اور خصوصی صنعتی زون سمیت ایسے منصوبے شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا ہے جو دنوں ملکوں کے لیے مفید ہوں۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اُن کا ملک دہشت گردی کے خاتمے کے عزم پر قائم ہے اور افغانستان میں امن کے قیام کے لیے طالبان کو سیاسی دھارے میں شامل کرنے کی افغان حکومت کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ علاقائی امن و سلامتی کے حصول کے لیے وزراء خارجہ کی سطح پر ایک مشترکہ کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جو افغانستان اور پاکستان کی خارجہ وزارتو ں، فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے نمائندے پر مشتمل ہوگا۔

افغان وزیر خارجہ زلمے رسول نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ دونوں ملک ایک بھرپور اعتماد کی فضا میں تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ دونوں وزراء کا کہنا تھا کہ بات چیت کا ایک اور بنیادی مقصد آئندہ ماہ واشنگٹن میں 22 سے 24 فروری تک ہونے والے سہہ فریقی اجلاس کی تیاری بھی تھا۔ وزیر خارجہ قریشی نے کہا کہ ماضی میں امریکہ، پاکستان اور افغانستان کی افواج اور خفیہ ایجنسیوں کے درمیان تعاون جاری تھا لیکن سیاسی رابطے بھی قائم کرنے کی ضرورت تھی جس پر اب اتفاق ہو گیا ہے۔

افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں جنگجوؤں کے ساتھ سیاسی مفاہمت اور انھیں سیاسی دھارے میں شامل کرنے کی کوششوں میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم اس عمل کے ٹھوس نتائج سامنے آنے میں ابھی وقت لگے گا۔ افغان وزیر خارجہ نے پاکستانی صدر اور وزیراعظم سے بھی ملاقات کی جس میں پاکستانی رہنماؤں نے افغانستان میں امن وسلامتی کے قیام کی کوششوں کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستانی حکام نے حالیہ دنوں میں یہ الزامات لگائے ہیں کہ شدت پسند افغان سرحد کی جانب سے داخل ہو کر پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی کی کارروائیاں کررہے ہیں۔ افغان عہدے داروں نے ان الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا ہے لیکن ایک روز قبل نو منتخب پارلیمان کے اراکین سے خطاب میں صدر حامد کرزئی نے یقین دہانی کرائی تھی کہ کسی کو بھی افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

رواں ماہ کے اوائل میں افغانستان کی ’اعلیٰ امن کونسل‘ کے سربراہ پروفیسر برہان الدین ربانی کی قیادت میں ایک وفد نے بھی پاکستان کا چار روزہ دورہ کیا تھا۔ یہ کونسل ملک میں ایسے طالبان کے ساتھ امن بات چیت کو فروغ دینے کے لیے قائم کی گئی ہے جو القاعدہ سے تعلق ختم اور تشدد کی راہ ترک کرکے افغان آئین کو تسلیم کرتے ہوئے قومی سیاسی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہوں۔

XS
SM
MD
LG