رسائی کے لنکس

افغان انتخابات کے بارے میں چند حقائق

  • عمیر ریاض

افغان انتخابات

افغان انتخابات

افغانستان میں ہفتہ کے روز پارلیمان کے ایوانِ زیریں کی 249 نشستوں کیلیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ 2001 کے اواخر میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد وجود میں آنے والی افغان پارلیمان کا یہ دوسرا انتخاب ہے۔ افغانستان کی موجودہ صورتِ حال کے تناظر میں مذکورہ انتخابات کے حوالے سے چند اہم حقائق درج ذیل ہیں:

۔ افغانستان کا حکومتی نظام صدارتی طرز کا ہے ۔ ملک میں دو ایوانی مقننہ موجود ہے جو صدر کی تشکیل کردہ حکومت کے تجویز کردہ قوانین کی منظوری دینے یا مسترد کرنے کی مجاز ہے۔

۔ پارلیمان کا ایوانِ بالا "مشرانو جرگہ" کہلاتا ہے جس کا انتخاب بلواسطہ طریقے سے عمل میں آتا ہے۔ ایوان کے 102 ارکان میں سے ایک تہائی (32 ارکان ) کا انتخاب ضلعی کاؤنسلز تین سال کی مدت کیلیے جبکہ مزید ایک تہائی ارکان کا انتخاب صوبائی کاؤنسلز چار سال کی مدت کیلیے کرتی ہیں۔ ایوان کے بقیہ 34 ارکان ملک کے صدر کی جانب سے پانچ سال کیلیے نامزد کیے جاتے ہیں۔

۔ وولیسی جرگہ کے نام سے معروف پارلیمنٹ کا ایوانِ زیریں زیادہ خود مختار حیثیت کا حامل ہے جس کے 249 ارکان کا انتخاب عوام بالغ رائے دہی کی بنیاد پر براہِ راست پانچ سال کی مدت کیلیے کرتے ہیں ۔ آئین کی رو سے ملک کا صدر اپنی کابینہ کے ارکان کے انتخاب کی توثیق ایوانِ زیریں سے کرانے کا پابند ہے۔

۔ ایوانِ زیریں میں ملک کے تمام 34 صوبوں کو آبادی کے تناسب سے نمائندی دی گئی ہے۔

۔ افغانستان کے آئین کے مطابق ایوان زیریں کی کل نشستوں کی ایک چوتھائی تعداد (249 میں سے 68 نشستیں) خواتین کیلیے مختص ہیں۔

۔ موجودہ ایوانِ زیریں کے پہلے انتخابات ستمبر 2005 میں ہوئے تھے جن میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ پچاس فیصد رہا تھا۔ مذکورہ الیکشن افغانستان کی تاریخ کے گزشتہ 33 سالوں میں پہلے پارلیمانی انتخابات تھے جن میں 2707 امیدواران نے حصہ لیا تھا۔

۔ ہفتہ کو ہونے والے انتخاب میں پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کی 249 نشستوں کیلیے کل 2447 امیدوار میدان میں ہیں جن میں سے 386 خواتین ہیں جو کل امیدواران کا 16 فیصد بنتی ہیں۔

۔ افغانستان کی پیچیدہ نسلی و لسانی تقسیم کے پیشِ نظر پارلیمان کا انتخاب افغان آئین کے مطابق غیر جماعتی بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔ جس کی رو سے تمام امیدواران پارٹی اور گروہی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر آزاد حیثیت سے انتخاب لڑرہے ہیں۔

۔ ملک میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ایک کروڑگیارہ لاکھ چار ہزار ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس انتخاب میں پچاس سے ستر لاکھ ووٹ ڈالے جانے کا امکان ہے۔

۔ افغانستان کے آزاد الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر میں کل 6835 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں ۔ تاہم سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے کے باعث ان میں سے پندرہ فیصد پولنگ اسٹیشنز ، یعنی تقریباً 1019، کو حساس قرار دیے جانے کے بعد ان پر پولنگ نہیں ہوگی۔ الیکش کمیشن کے مطابق ان پولنگ اسٹیشنز پہ رجسٹرڈ لاکھوں ووٹرز کو دیگر قریبی محفوظ علاقوں میں لے جا کر ان کے ووٹ کاسٹ کرانے کا بندوبست کیا گیا ہے۔تاہم مبصرین خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ اس انتظام کے باوجود کئی ہزار افراد کے اپنے حقِ رائے دہی استعمال کرنے سے محروم رہ جانے کا اندیشہ ہے۔

۔ الیکشن پہ آنے والے اخراجات کا تخمینہ 150 ملین ڈالرز لگایا گیا ہے، جو کہ تما م کے تمام عالمی ادارے اور افغانستان کو امداد فراہم کرنے والے مغربی ممالک بشمول امریکہ ادا کرینگے۔

۔ افغان پولیس، فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے ڈھائی لاکھ سے زیادہ اہلکار پولنگ اسٹیشنز کی حفاظت اور الیکشن کے دوران امن و امان قائم رکھنے کیلیے تعینات کیے گئے ہیں، جنہیں ملک میں موجود ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد ایساف اور نیٹو فوجیوں کی مدد حاصل ہوگی۔

۔ افغانستان میں ہونے والے پچھلے تمام الیکشنز کی طرح اس بار بھی طالبان کی جانب سے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کیلیے حملوں کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ جبکہ طالبان نے عوام کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ انتخابی عمل سے لاتعلق رہیں۔ انتخابات سے قبل کئی علاقوں میں انتہا پسندوں کی جانب سے امیدواران کو انتخابی مہم چلانے سے روکنے کی بھی شکایات موصول ہوئی ہیں۔

۔ انتخاب سے پہلے پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں اب تک چار امیدواران سمیت 21 افراد ہلاک اور مختلف امیدواران کی انتخابی مہم چلانے والے درجنوں سیاسی کارکنان زخمی ہوچکے ہیں۔مقامی میڈیا ذرائع کے مطابق الیکشن سے صرف ایک روز پہلے جمعہ کے دن طالبان نے دو مزید امیدواران اورمختلف علاقوں میں الیکشن ڈیوٹیز انجام دینے والے عملے کے 18 ارکان کو اغواء کرلیاہے۔

۔ عالمی اداروں کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ سیکیورٹی کی خراب صورتحال کے باعث کئی علاقوں تک آزادمبصرین اور الیکشن کی نگرانی کرنے والے عالمی ماہرین کی رسائی ممکن نہیں ہوگی۔ جس کی وجہ سے ایسے علاقوں میں مقامی حکام کی جانب سے ووٹنگ کے عمل میں دھاندلی اور انتخابی نتائج میں ہیر پھیر کرنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG