رسائی کے لنکس

افغانستان: دوپہر کے بعد ووٹروں کی تعداد میں خاصا اضافہ دیکھا گیا


افغان خواتین ووٹر

افغان خواتین ووٹر

ہفتے کی صبح افغان پارلیمانی انتخابات کےلیےووٹنگ کے آغاز پرکابل میں زیادہ لوگ موجود نہیں تھے، لیکن دوپہر بارہ بجے کے بعد ووٹروں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔اطلاعات کے مطابق، یہی حال افغانستان کے باقی علاقوں کا بھی تھا۔

یہ بات کابل میں موجود ‘وائس آف امریکہ’ کے نمائندے محمد ابراہیم نے ٹیلی فون انٹرویو میں‘ ریڈیو آپ کی دنیا’ کو بتائی۔

اُنھوں نے کہا کہ، ‘اِس کی وجہ یہ تھی کہ پہلے لوگوں کے ذہنوں میں خوف تھا ۔ جب یہ احساس عام ہوا کہ تشدد کے واقعات نہیں ہوئے تو لوگوں نےکافی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں کا رُخ کرنا شروع کیا۔ ’

اُنھوں نے بتایا کہ کابل کی طرح ملک کے باقی حصوں میں بھی سکیورٹی کا سخت بندوبست کیا گیا تھا۔ صرف کابل میں 60000افغان فوج کے علاوہ نیٹو کی فوجی ، پولیس اور پرائیویٹ سکیورٹی موجود تھی۔ ‘پھر، اِس مرتبہ بین الاقوامی مبصرین بھی کافی تعداد میں کابل کے علاوہ ملک کے دور دراز علاقوں میں موجود تھے۔ مبصرین کی طرف سے آج کے الیکشن پر اچھی رپورٹ سامنے آئی ہے، جب کہ دھاندلی کے کوئی اکہ دکہ واقعات منظرِ عام پر آئے ہیں، لیکن فراڈ میں ملوث زیادہ تر لوگ پکڑے گئے۔’

ایک سوال کے جواب میں نمائندے نے بتایا، چونکہ افغانستان میں اب تک دو تین انتخابات ہو چکے ہیں، خاص طور پر دو سال قبل کے انتخابات اور پھر گذشتہ برس ہونے والا صدارتی انتخاب۔ اِس لیے لوگ اب انتخابی عمل سے بخوبی واقف ہیں۔یاد رہے کہ خصوصی طور پر پچھلے سال کے صدارتی انتخابی عمل پر یورپ اور امریکہ نے سوالیہ نشان اُٹھائے تھے۔
رپورٹ سنئیے:

XS
SM
MD
LG