رسائی کے لنکس

افغان صدارتی انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت


تشدد کے اکا دکا واقعات کے علاوہ مجموعی طور پر پولنگ کا عمل پرامن ماحول رہا اور طالبان کی دھمکیوں کے باوجود لوگوں نے بڑی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

افغانستان میں نئے صدر کے انتخابات کے لیے ہفتہ کو ووٹ ڈالے گئے۔ طالبان کی طرف سے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے اور انتخابات کا حصہ بننے والوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے باوجود لوگوں کی ایک قابل ذکر تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

ملک بھر میں پولنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے شروع ہوا جو کہ نو گھنٹوں تک جاری رہا۔ بعد ازاں لوگوں کی بڑی تعداد کی پولنگ اسٹیشنز پر موجودگی کے باعث اس میں ایک گھنٹے کی توسیع کر دی گئی۔

افغانستان میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد ہے اور ملک میں 21 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے تھے۔

انتخابات کی نگرانی کرنے والی ایک تنظیم فری اینڈ فئیر الیکشن فاؤنڈیشن آف افغانستان کے ایک اعلٰی عہدیدار احمد نادر نادری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے مختلف تنظیموں کی جانب سے 20 ہزار مبصر تعینات کیے گئے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ خدشات کے باوجود ووٹروں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔

احمد نادر نادری نے کہا کہ کچھ حملے ہوئے لیکن شدت پسند انتخابی عمل کو متاثر نہیں کر سکے۔ اُنھوں نے کہا کہ بارش کے باوجود ووٹ ڈالنے والوں کی لمبی لمبی قطاریں نظر آئیں، حتیکہ خوست اور قندھار میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

صدر حامد کرزئی 2001 میں طالبان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے اقتدار میں ہیں۔ لیکن ملک کے آئین کے مطابق وہ مسلسل تیسری مرتبہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے اہل نہیں۔

اس لیے پانچ اپریل کے انتخابات کو ملک میں پر امن انتقال اقتدار کے لیے انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ صدارتی انتخابات کے علاوہ ملک میں صوبائی کونسل کے بھی انتخابات ہو ئے۔

منصب صدارت کے لیے آٹھ اُمیدوار میدان ہیں تاہم اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ اور زلمے رسول کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔

مبصرین نے ان انتخابات کو جمہوری عمل کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔ تجزیہ کار زیور خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ لوگ انتخابات کے نتائج سے خاصی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

"لوگ بہت خوش ہیں کہ وہ اپنا نیا صدر منتخب کر رہے ہیں، سکیورٹی کے تمام ادارے پولیس یہ سب پرعزم ہیں کہ وہ پرامن ماحول کو یقینی بنائیں گے۔"

انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے ملک بھر میں ساڑھے تین لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔ خاص طور پر پولنگ اسٹیشنز کی گرد سکیورٹی کے کئی حصار بنائے گئے تھے تاکہ افغان عوام اپنے ووٹ کا حق استعمال کر سکیں۔

اُدھر افغانستان کے جنوبی شہر قلات میں سڑک میں نصب ایک بم کے دھماکے سے کم ازکم دو پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ یہ اہلکار ایک پولنگ اسٹیشن سے واپس آرہے تھے۔ جنوب مشرقی صوبہ لوگر میں ایک پولنگ سنٹر کے باہر دھماکے سے چار افراد زخمی ہو گئے، جب کہ بعض علاقوں میں راکٹ بھی داغے گئے لیکن اُن میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

طالبان کی طرف سے انتخابات میں رخنہ اندازی کے اعلانات اور اس میں شرکت کرنے والوں کو نشانہ بنائے جانے کی دھمکیوں کے باوجود افغان طالبان کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے جنوبی صوبہ قندھار میں خواتین نے بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ گو کہ ان کی تعداد خاطر خواہ نہیں تھی۔

ملک کے بعض حصوں کے پولنگ اسٹیشنز سے بیلٹ پیپر ختم ہونے کی اطلاعات کے ساتھ ساتھ یہ خبریں بھی موصول ہوئی ہیں کہ حکام نے جعلی ووٹ ڈالنے یا جعلی ووٹنگ کارڈز استعمال کرنے کی کوشش کرنے والے کم از کم چھ سرکاری اہلکاروں کو حراست میں لیا۔

افغان الیکشن کمیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں اگر کوئی صدارتی امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوا، تو ایسی صورت میں دوسرے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو اُمیدواروں میں مقابلہ ہو گا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG