رسائی کے لنکس

30 لاکھ افغان خشک سالی سے متاثر، ہنگامی امداد کی اپیل

  • یاسر منصوری

30 لاکھ افغان خشک سالی سے متاثر، ہنگامی امداد کی اپیل

30 لاکھ افغان خشک سالی سے متاثر، ہنگامی امداد کی اپیل

افغانستان میں امدادی کارروائیوں میں مصروف بین الاقوامی تنظیموں نے متنبہ کیا ہے کہ ملک میں خشک سالی کے باعث اندازاً 30 لاکھ لوگوں کو فوری امداد کی ضرورت ہے، جبکہ سردی میں شدت آنے سے اُن کی خوراک تک رسائی میں مشکلات سنگین ہونے کا خطرہ ہے۔

برطانوی امدادی تنظیم اوکسفیم کے افغانستان میں ڈائریکٹر منوہر شینوئے کا کہنا ہے کہ موجودہ خشک سالی سے ملک کے 34 میں سے 14 صوبے متاثر ہوئے ہیں لیکن زیادہ تر وسطی اور شمالی علاقے اس بحران کی زد میں آئے ہیں۔

جمعہ کو وائس آف امریکہ کے ساتھ انٹرویو میں اُنھوں نے بتایا کہ اگر متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو فوری امداد نا فراہم کی گئی تو اندیشہ ہے کہ وہ بھوک، خوراک کی قلت اور بیماریوں کا شکار ہو جائیں گے۔

’’موسم سرما کی آمد ہے، جب کہ کچھ علاقے پہلے ہی اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، اور ہماری سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ ہم متاثرہ لوگوں کو جلد امداد نہیں پہنچا پائے ہیں۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ بین الاقوامی تنظیموں کو مالی وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے اور اگر عالمی برادری وسائل کی فراہمی میں تیزی نا لائی تو صورت حال سنگین شکل اختیار کر لے گی۔

اوکسفیم کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ خشک سالی کی وجہ سے خوراک کی قیمتوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 100 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور لوگ فاقوں، قرض لینے یا نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

’’ بدقسمتی سے گزشتہ 10 برسوں کے دوران افغانوں کے لیے امدادی کوششیں ملک میں جاری فوجی کارروائیوں سے منسلک رہیں اور یہی وجہ ہے کہ امداد اُن علاقوں تک نہیں پہنچ پائی جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں امن و امان کی خراب صورت حال امدادی کارروائیوں کے آڑے آ رہی ہے اور یہ ہمیشہ ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔

جنگ سے متاثرہ افغانستان میں خشک سالی سے پیدا ہونے والا یہ پہلا بحران نہیں ہے اور افغان حکومت کے متعلقہ ادارے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں، لیکن اس حوالے سے صدر حامد کرزئی کی حکومت کی سنجیدگی پر بین الاقوامی امدادی تنظیمیں عدم اطمینان کا اظہار کرتی آئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG