رسائی کے لنکس

ادھر افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے معاون مشن نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ستمبر میں قندوز پر طالبان کے حملے اور ان کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں کم ازکم 848 عام شہری ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایک حساس علاقے میں واقع ایک گیسٹ ہاؤس پر حملہ کرنے والے طالبان عسکریت پسندوں کو سکیورٹی فورسز نے کئی گھنٹوں کی کارروائی کے بعد ہلاک کر دیا ہے، جب کہ اس واقعے میں دو غیر ملکی اور چار افغان پولیس اہلکار بھی مارے گئے۔

کابل پولیس کے ترجمان بصیر مجاہد کے مطابق اسپین کے سفارت خانے سے منسلک گیسٹ ہاؤس پر جمعہ کی شام کو چار مسلح عسکریت پسندوں نے دھاوا بولا تھا جن کے خلاف سکیورٹی فورسز کی شروع ہونے والی کارروائی ہفتہ کو علی الصبح اختتام کو پہنچی۔

ان کے بقول حملہ آوروں میں سے ایک نے گیسٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر دھماکا کیا جس کے بعد دیگر تین حملہ آور عمارت میں داخل ہوئے۔

افغان حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اسپین کا ایک سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہے اور دیگر نو افراد اس واقعے میں زخمی ہوئے جب کہ قریبی عمارتوں سے غیر ملکیوں سمیت 40 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

کابل پولیس کے سربراہ عبدالرحمان رحمانی کے مطابق آپریشن میں زیادہ وقت اس بنا پر صرف ہوا کیونکہ " ہم یہاں اور قرب و جوار میں پھنسے لوگوں کو بحفاظت نکالنا چاہتے تھے۔''

اس واقعے سے تین روز قبل ہی طالبان نے جنوبی شہر قندھار میں ایک ہوائی اڈے پر حملہ کیا تھا اور تقریباً 27 گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 61 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

طالبان کے بڑھتی ہوئی کارروائیوں سے جنگ سے تباہ حال ملک میں سلامتی کی صورتحال سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی دوران تنقید کی زد میں رہنے والے افغان انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ رحمت اللہ نبیل نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

یہ تازہ واقعات ایک ایسے وقت رونما ہوئے ہیں جب رواں ہفتے ہی افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اسلام آباد میں منعقدہ ’ہارٹ آف ایشیا کانفرنس‘ میں شرکت کی تھی جہاں دیگر ملکوں بشمول امریکہ نے افغانستان میں مصالحتی عمل اور طالبان سے بات چیت کے سلسلے کو آگے بڑھانے کی کوششوں پر اتفاق کیا تھا۔

ادھر افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے معاون مشن نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ستمبر میں قندوز پر طالبان کے حملے اور ان کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں کم ازکم 848 عام شہری ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔

"یو این اے ایم اے" کے مطابق اس میں وہ 30 افراد بھی شامل ہیں جو امریکی فضائی کارروائی کے دوران نشانہ بننے والے بین الاقوامی طبی امداد کی تنظیم "ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز" کے اسپتال میں موجود تھے۔

مشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس کے علاوہ زیادہ تر جانی نقصان چھوٹے ہتھیاروں یا بم دھماکوں کی زد میں آنے کی وجہ سے ہوا۔

طالبان عسکریت پسندوں نے چند روز کے لیے قندوز پر قبضہ کر لیا تھا لیکن افغان سکیورٹی فورسز نے امریکی افواج کی مدد سے یہ قبضہ واگزار کروا لیا تھا۔

ملک کے مختلف جنوبی اور شمالی حصوں میں افغان فورسز کو طالبان کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہے جب کہ بعض علاقوں میں طالبان کے مختلف دھڑوں کے درمیان بھی لڑائیاں جاری ہیں۔

XS
SM
MD
LG