رسائی کے لنکس

افغان سکیورٹی فورسز کا اہم شاہراہ پر کنٹرول بحال


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

یہ شاہراہ مرکزی افغان شہروں کابل اور کندھار کو ملک کی دیگر حصوں سے ملاتی ہے اور اس کی بندش سے افغانستان کی اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔

افغان سکیورٹی فورسز کا کابل سے قندھار جانے والی شاہراہ پر ایک مرتبہ پھر کنٹرول بحال ہو گیا ہے اور اسے ٹریفک کے لیے کھول دیا ہے۔

طالبان نے اسے جمعہ کو بند کیا تھا جس کے بعد سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں لوگ ٹریفک میں پھنسے رہے۔

ہائی وے پر قبضہ ایسے وقت کیا گیا جب کئی ہفتوں تک افغان فورسز کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد طالبان شمالی شہر قندوز سے نکل گئے ہیں۔ افغان فورسز کو امریکی فضائیہ کی مدد بھی حاصل تھی۔

یہ شاہراہ مرکزی افغان شہروں کابل اور کندھار کو ملک کی دیگر حصوں سے ملاتی ہے اور اس کی بندش سے افغانستان کی اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔

ایک ہفتے کے دوران اس شاہراہ کا کنٹرول کئی مرتبہ افغان سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں سے نکل کر طالبان کے ہاتھ میں گیا جسے دوبارہ واپس حاصل کر لیا گیا۔ شاہراہ پر قبضے کے دوران طالبان نے چند پلوں کو دھماکے سے اڑایا اور اس کے ساتھ ساتھ بارودی سرنگیں بھی بچھائیں۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں افغان سکیورٹی فورسز نے شاہراہ کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کئی درجن طالبان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ قندھار پولیس چیف نے لوگوں کو یقین دلایا کہ فورسز کا شاہراہ پر مکمل کنٹرول ہے۔

قندھار کے پولیس سربراہ جنرل رازق نے کہا کہ ’’سڑک اب لوگوں کے لیے کھلی ہے۔ کچھ پلوں کو دوبارہ تعمیر کر لیا گیا ہے۔ وزارت سوشل ورکس اور صوبائی حکومت اس پر مزید کام کرے گی۔‘‘

مقامی لوگ خوش ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے اس اہم شاہراہ پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

علاقے کے ایک رہائشی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’’میں غزنی سے آیا ہوں اور اب کوئی مسئلہ نہیں۔ تمام جگہیں جہاں لڑائی جاری تھی اب ٹھیک ہیں۔ ہائے وے پر دس بارہ جگہوں پر پل تباہ کر دیے گئے تھے۔‘‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کا قندوز پر قبضہ اور کابل قندھار ہائی وے کی ناکہ بندی اگرچہ مختصر تھی مگر اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے جنوب اور مشرق میں اپنے اہم مراکز سے باہر بھی وہ حملے کر سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG