رسائی کے لنکس

قندوز پر طالبان کا حملہ پسپا کر دیا گیا: افغان عہدیدار


قندوز کے وسطی علاقے کا ایک منظر

قندوز کے وسطی علاقے کا ایک منظر

حکام کے مطابق طالبان کی طرف سے قندوز شہر پر جمعہ کو حملہ کیا گیا تھا اور کئی گھنٹوں تک ہونے والی لڑائی میں 40 سے زائد جنگجو مارے گئے جب کہ افغان فورسز کے چار اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

افغان عہدیداروں نے کہا ہے کہ فورسز نے ملک کے شمالی شہر قندوز پر طالبان کے ایک حملے کو پسپا کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال طالبان نے قندوز پر ایک بڑا حملہ کر کے شہر کا کنٹرول کچھ دنوں کے لیے سنبھال لیا تھا، لیکن امریکی فورسز کی مدد سے افغان فوج نے بھرپور کارروائی کر کے طالبان کو شہر سے باہر دھکیل دیا تھا، لیکن اس دوران شہر میں بڑی تباہی ہوئی۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹیڈ پریس‘ کے مطابق صوبائی پولیس کے سربراہ قاسم جنگلہ باغ نے ہفتے کو کہا کہ قندوز میں سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے اور صوبے کے دیگر علاقوں میں طالبان کو شکست دے دی گئی ہے۔

لیکن صوبائی گورنر کے ترجمان عبدالواسع باسل نے کہا کہ اب بھی صوبے کے دو اضلاع خان آباد اور دشتی میں جھڑپیں جاری ہیں۔

حکام کے مطابق طالبان کی طرف سے قندوز شہر پر جمعہ کو حملہ کیا گیا تھا اور کئی گھنٹوں تک ہونے والی لڑائی میں 40 سے زائد جنگجو مارے گئے جب کہ افغان فورسز کے چار اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق افغان فورسز کے اضافی دستے قندوز میں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے ہی افغان طالبان نے ’’عمری آپریشن‘‘ کے نام سے نئی کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

طالبان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ یہ کارروائیاں اپنے بانی رہنما ملا عمر کے نام پر شروع کر رہے ہیں۔

ملاعمر کا انتقال 2013 میں ہوا تھا لیکن طالبان نے اس کی تصدیق گزشتہ سال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُنھوں نے دانستہ طور پر اس خبر کو پوشیدہ رکھا تھا۔

طالبان کی طرف سے نئی کارروائیوں کا آغاز ایسے وقت کیا گیا جب افغانستان میں امن مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں لیکن تاحال اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

افغان مصالحتی عمل کی بحالی کے لیے پاکستان، افغانستان، چین اور امریکہ پر مشتمل ایک چار ملکی گروپ تشکیل دیا گیا تھا۔ رواں سال جنوری سے اب تک اس گروپ کے چار اجلاس ہو چکے ہیں۔

اسی گروپ کی کوششوں سے رواں سال مارچ میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات متوقع تھے لیکن افغان طالبان نے بعض پیشگی شرائط عائد کرتے ہوئے مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ امن مذاکرات کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا تاہم وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ صرف پاکستان نہیں بلکہ چار ملکی گروپ میں شامل تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

رواں ہفتے ہی پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی رچرڈ اولسن نے اسلام آباد میں پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری سے ملاقات میں دیگر اُمور کے علاوہ افغان مصالحتی عمل سے متعلق اُمور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

XS
SM
MD
LG