رسائی کے لنکس

افغان فوج کے سربراہ جنرل کریمی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سب کا مشترکہ دشمن ہے اور ایسے عناصر کو شکست دینے کے لیے ملکوں کے درمیان قریبی تعاون بہت ضروری ہے۔

افغانستان کی فوج کے سربراہ جنرل شیر محمد کریمی نے کہا ہے کہ خطے کو غیر ریاستی عناصر سے خطرہ درپیش ہے جو دہشت اور خوف پھیلا کر طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

جنرل کریمی کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر کو شکست دینے کے لیے ملکوں کے درمیان قریبی تعاون بہت ضروری ہے۔

یہ بات انھوں نے ہفتہ کو پاکستانی فوج کی مرکزی تربیت گاہ کاکول میں کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وہ اس تقریب کے مہمان خصوصی بھی تھے۔

جنرل کریمی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سب کا مشترکہ دشمن ہے جس سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ تعاون کرنا ہو گا۔

"ہمارے خطے خاص طور پر افغانستان اور پاکستان کو فرد اور گروپوں کی طرف سے خطرات کا سامنا ہے ان کا کسی ریاست سے تعلق نہیں اسی لیے انھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے۔۔۔ یہ نیا دشمن جو ہم سب کا مشترکہ دشمن ہے یہ کسی سرحد اور کسی مذہب اور اخلاقی اصولوں کو نہیں مانتا۔ یہ دہشت اور خوف سے طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس لعنت سے نمٹنے اور اس خطرے کو شکست دینے کے لیے ملکوں خصوصاً پڑوسیوں کے درمیان سنجیدہ، قریبی، مربوط اور نتیجہ خیز تعاون ضروری ہے۔"

انھوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری اسٹریٹیجک مذاکرات کے بارے میں پر امید انداز میں کہا کہ اس سے امن کا مقصد اور خطے میں استحکام کا ہدف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پہلی مرتبہ چھ افغان کیڈٹس بھی کاکول ملٹری اکیڈمی میں زیر تربیت ہیں۔

افغان فوج کے سربراہ جمعہ کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے جہاں انھوں نے پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات تھی۔

اس ملاقات میں خطے خصوصاً افغانستان میں سلامتی و استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کے علاوہ پاک افغان سرحد کی موثر نگرانی کے اقدامات اور دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان تربیت اور دفاع کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔

دونوں پڑوسی ملکوں کی سیاسی و عسکری قیادت میں حالیہ مہینوں میں ہونے والے رابطوں کی بدولت تعلقات میں ماضی کی نسبت بہتری دیکھی جارہی ہے اور مبصرین کے بقول ان رابطوں سے عدم اعتماد کو دور کرکے قریبی تعاون کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG