رسائی کے لنکس

قندھار جیل سے سینکڑوں قیدی فرار

  • اکرام شنواری

قندھار جیل سے سینکڑوں قیدی فرار

قندھار جیل سے سینکڑوں قیدی فرار

مقامی حکام نے کہا ہے کہ جیل توڑنے کا واقعہ اتوار کی شب گیارہ بجے پیش آیا اور تمام قیدی خفیہ طور پر جیل کی جنوب سے اندر کی طرف کھودی گئی کئی سو میٹر طویل ایک سرنگ کے راستے فرار ہوئے۔ تین سالوں میں قندھار جیل سے قیدیوں کے فرار کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔

افغانستان میں حکام نے کہا ہے کہ جنوبی شہر قندھار کی مرکزی جیل سے لگ بھگ پانچ سو قیدی فرار ہو گئے ہیں جن میں زیادہ تر کا تعلق طالبان باغیوں سے ہے۔

عسکریت پسندوں کے ایک ترجمان قاری یوسف احمدی نے میڈیا کو اطلاع دی ہے کہ ایک منظم منصوبے کے تحت فرار ہونے والے قیدیوں میں لگ بھگ ایک سوطالبان کمانڈر جبکہ دیگر افراد میں بھی زیادہ تر اُن کے جنگجو شامل ہیں۔

قندھار جیل میں قیدیوں کی کل تعداد بارہ سو بتائی گئی ہے اور جیل کے ایک نگران غلام دستگیر معیارنے صحافیوں کو بتایاکہ زیر حراست زیادہ تر افراد کا تعلق افغانستان میں جاری شورش یا پھر منشیات کے اسمگلروں سے ہے۔

صدر حامد کرزئی کے ایک ترجمان وحید عمر نے قیدیوں کے فرار کو سکیورٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا قراردیے ہوئے افغان سکیورٹی فورسز کی کمزوریوں اوراُنھیں درپیش مسائل کا اعتراف کیا ہے۔

کابل میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اول تو ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیئے تھا اوراب جب کہ یہ واقعہ رونما ہوچکا ہے، متعلقہ حکام اس کے اسباب کی تحقیقات کررہے ہیں۔

وحید عمر نے کہا کہ حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ قندھار جیل میں پیش آنے والے اس تباہ کن واقعہ کا ازالہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔

وحید عمر

وحید عمر

’’یہ واقعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمیں کمزوریوں اور مسائل کا سامنا ہے۔ لیکن اس بڑے پیمانے پر قیدیوں کے فرار کے واقعہ کے بارے میں تحقیقات کے بارے میں کچھ کہنا یا کسی کو ذمہ دار ٹھہرانا قبل از وقت ہوگا ۔‘‘

دریں اثنا پیر کو کابل میں ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیٹو کے ترجمان جنرل جوزف بلاٹز نے کہا کہ بین الاقوامی افواج جیل سے قیدیوں کے فرار کے واقعہ سے آگاہ ہیں اور اس سلسلے میں افغانوں کو مدد کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔ تاہم اُنھوں نے واضح کیا ہے کہ قندھار کی مرکزی جیل کا انتظام مکمل طور پر افغان حکومت کے پاس ہے۔

مقامی حکام نے کہا ہے کہ جیل توڑنے کا واقعہ اتوار کی شب گیارہ بجے پیش آیا اور تمام قیدی خفیہ طور پر جیل کی جنوب سے اندر کی طرف کھودی گئی 320 میٹر سے زائد طویل ایک سرنگ کے راستے فرار ہوئے۔

تین سالوں میں قندھار جیل سے قیدیوں کے فرار کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔

2008ء میں تقریباََ ایک ہزار قیدی اُس وقت فرار ہونے میں کامیا ب ہوگئے تھے جب طالبان جنگجوؤں نے بارود سے بھرے ایک ٹرک کو قندھار جیل کے داخلی دروازے سے ٹکرا دیا اور طاقتور دھماکے سے عمارت کا کچھ حصہ منہدم ہوگیا۔ فرار ہونے والے قیدیوں میں طالبان جنگجو بھی شامل تھے۔

XS
SM
MD
LG