رسائی کے لنکس

دہشت گردی اور انتہا پسندی کا زور، افغان صحافیوں کی زندگی داؤ پر


فائل

فائل

’’رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز کو افغانستان کے متعدد صوبوں میں پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے والے سینکڑوں صحافیوں اور ابلاغ عامہ کے اداروں کے بارے میں شدید تشویش لاحق ہے، جس کا سبب طالبان اور داعش کی جانب سے حملوں میں تیزی آنے کا عنصر ہے‘‘

افغانستان میں چھڑنے والی لڑائی کے دوران صحافیوں کی پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی انتہائی خطرناک معاملہ رہا ہے۔ تاہم، بتایا جاتا ہے کہ ملک میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے نتیجے میں، لاحق خطرات مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں، خصوصی طور پر اُن علاقوں میں جہان طالبان اور داعش کے شدت پسند قابض ہیں، جہاں پر حکومت پھر سے کنٹرول حاصل کرنےکی جدوجہد میں لگی ہوئی ہے۔

ضیا بومیا ’ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسو سی ایشن فور افغانستان‘ کے صدر اور افغان صحافیوں کی تنظیم کے سرکردہ رکن ہیں۔ اُنھوں نے ٹیلی فون انٹرویو میں ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’ملک کی مجموعی صورتِ حال ہر ایک کے لیے انتہائی خدشات کا باعث ہے، لیکن سب سے زیادہ متاثر طبقہ صحافیوں ہی کا ہے‘‘۔

صحافتی حقوق سے متعلق گروپ ’رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز‘ (آر ایس یف) نے اس ہفتے افغان حکام پر زور دیا ہے کہ ’’لڑائی کے علاقوں‘‘ میں صحافیوں کے تحفظ کا اقدام کیا جائے۔ گروپ نے کہا ہے کہ طالبان اور دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے صحافیوں کے خلاف خطرات بڑھا دیے ہیں۔

گروپ کے الفاظ میں ’’رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز کو افغانستان کے متعدد صوبوں میں پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے والے سینکڑوں صحافیوں اور ابلاغ عامہ کے اداروں کے بارے میں شدید تشویش لاحق ہے، جس کا سبب طالبان اور داعش کی جانب سے حملوں میں تیزی آنے کا عنصر ہے‘‘۔

’آر ایس ایف‘ کے مطابق، لڑائی زدہ علاقوں میں پیشہ ور صحافی شدت پسندوں اور مقامی اہل کاروں دونوں کی جانب سے دباؤ میں ہیں۔ طالبان اُن پر ’’غیر وابستہ ہو کر کام نہ کرنے کا الزام دیتے ہیں‘‘، جب کہ مقامی حکام کو یہ فکر رہتی ہے کہ وہ ’’صورتِ حال کو بڑھا چڑھا کر اور انتہائی منفی انداز میں پیش کریں گے‘‘۔

خطرے کی گھنٹی

’آر ایس ایف کے‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’باوجود اِس بات کے کہ صحافی افغانستان کے اِن لڑائی والے علاقوں میں جراٴت سے خبریں بھیج رہے ہیں، لیکن ہیلمند، قندوز، بغلان، ننگرہار، ٹکھڑ، غزنی اور فرح جیسے صوبے دھیرے دھیرے خبروں اور اطلاعات کے لحاظ سے سیاہ مقامات بنتے جا رہے ہیں، جہاں آزادیٴ صحافت قصہ پارینہ بنتا جا رہا ہے‘‘۔

افغان صحافیوں کی تنظیموں نے شدت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر اپنی تشویش کا بھی اظہار کیا ہے، جس میں اس وقت ہیلمند میں جاری جھڑپیں شامل ہیں، جس سے اخباری نمائندوں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

رحیم اللہ سمندر، ’افغان انڈپنڈنٹ جرنلسٹس ایسو سی ایشن‘ کے سربراہ ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ ’’میں جن بھی صحافیوں میں ملا ہوں، سارے ہی پریشان ہیں‘‘۔

اُن کے بقول ’’بغلان، قندوز اور ٹکھار کے حکمتِ عملی کے حامل تین صوبوں میں شدید لڑائی جاری ہے۔ اِن صوبوں میں قومی اور غیر ملکی ابلاغ عامہ سے وابستہ صحافی کام کر رہے ہیں؛ مقامی صحافیوں کی تعداد کم از کم 50 جب کہ بین الاقوامی میڈیا کے تقریباً 10 نمائندے موجود ہیں۔ مقامی صحافیوں کو قومی یا غیر ملکی میڈیا کی حمایت حاصل نہیں ہے، جن کی فوج اور سیاسی حکام کم ہی قدر کرتے ہیں؛ جنھیں وہ پریشان کُن خبریں بھیجنے کا الزام بھی دیتے ہیں‘‘۔

خوف کی فضا

ملک کے جنوبی صوبے، ہیلمند میں طالبان شدت پسندوں کے خلاف گھمسان کی لڑائی میں افغانستان کے 11 سکیورٹی کے ادارے نبردآزما ہیں، جہاں شدت پسندوں نے کئی ایک اضلاع پر قبضہ جما لیا ہے۔ جھڑپوں کے نتیجے میں امریکی فوج نے صوبے کے دارالحکومت لشکر گاہ میں 100 کے قریب فوجی تعینات کیے ہیں، تاکہ اس محصور شہر کے دفاع میں افغان افواج کی مدد کی جاسکے۔

جمعرات کے روز وائس آف امریکہ کو دیے گئے ایک ٹیلی فون انٹرویو میں، جنوبی افغانستان کے ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ ’’کل ہی سکیورٹی اہل کاروں نے ایک بم برآمد کرکے ناکارہ بنایا، جسے ہیلمند کی صحافیوں کی تنظیم کے دفتر کے باہر نصب کیا گیا تھا‘‘۔ صحافی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر گفتگو کی۔

ادھر 28 جنوری 2016ء کو طالبان حملے میں زینب مرزائی ہلاک ہوئیں جب شدت پسندوں نے ایک بس پر حملہ کیا، جس میں افغانستان کے ابلاغ عامہ کے ایک بڑے ادارے سے تعلق رکھنے والے ملازمین سوار تھے۔

ملک کے مشرقی حصوں کی صورت حال بھی کوئی زیادہ خوش کُن نہیں ہے۔ داعش کے شدت پسندوں نے ننگرہار میں متعدد اخباری نمائندوں کو دھمکیاں دی ہیں، جہاں دہشت گرد گروپ نے متعدد اضلاع میں اپنی شاخیں قائم کر رکھی ہیں۔ ایک مقامی صحافی نے ننگرہار کے دارلحکومت جلال آباد سے وی او اے کو بتایا کہ ’’ہم داعش سے خوفزدہ ہیں۔ یہ گروپ ہم میں سے کئی لوگوں کو دھمکیاں دے چکا ہے۔ وہ ہمیں ایمانداری سے خبریں نہ بھیجنے کا الزام دیتےہیں‘‘۔

حکومت افغانستان نے کہا ہے کہ ملک میں صحافیوں کی حفاظت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدام کیے جائیں گے۔

بامیا کے بقول، ’’افغان جرنلسٹس فیڈریشن کا نیشنل سکیورٹی کونسل کے ساتھ سمجھوتا طے پایا ہے، جسے صحافیوں کے تحفظ کے ضابطے کا نام دیا گیا ہے‘‘۔

بامیا کے بقول، ’’اس ضابطے کے تحت، متاثرہ صحافیوں اور اُن کے اہل خانہ کی اعانت کے لیے ایک فنڈ تشکیل دیا جائے گا‘‘۔

عالمی آزادی صحافت کی سال 2016 کی فہرست میں، دنیا کے 180 ملکوں میں افغانستان کا شمار 120ویں خطرناک ملک کے طور پر ہوتا ہے۔ کمیٹی ٹو پراٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق، سنہ 2001سے اب تک افغانستان میں 27 صحافی اور ابلاغ عامہ کے کارکن ہلاک ہوچکے ہیں۔ سنہ 2008 میں بی بی سی کے نمائندہ، سرمد روحانی کو لشکرگاہ سے اغوا کرکے قتل کیا گیا۔ ’این پی آر‘ کے فوٹو جرنلسٹ ڈیوڈ گلکی اور افغان صحافی ذبیح اللہ تمنہ کو جون میں ہیلمند میں ہلاک کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG