رسائی کے لنکس

افغانستان: وزیرِ داخلہ کی برطرفی کا مطالبہ


افغانستان کے وزیرِ داخلہ غلام مجتبیٰ پتنگ

افغانستان کے وزیرِ داخلہ غلام مجتبیٰ پتنگ

افغان سیاست دانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیرِ داخلہ غلام مجتبیٰ پتنگ شدت پسندوں کے تواتر سے ہونے والے حملوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

افغانستان کی پارلیمان نے ملک کے وزیرِ داخلہ کو سکیورٹی کی ابتر صورتِ حال کا ذمہ دار ٹہراتے ہوئے ان کی برطرفی کی قرارداد منظور کرلی ہے۔

پیر کو قرارداد پر رائے شماری کے دوران میں افغان پارلیمان کے 136 ارکان نے وزیرِداخلہ کی برطرفی کے حق میں ووٹ دیا جب کہ صرف 60 ارکان نے ان کی حمایت کی۔

اس موقع پر اپنی تقریروں میں افغان سیاست دانوں نے الزام عائد کیا کہ وزیرِ داخلہ غلام مجتبیٰ پتنگ شدت پسندوں کے تواتر سے ہونے والے حملوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

ارکانِ پارلیمان نے کابل سے جنوبی شہر قندھار جانے والی ملک کی مرکزی شاہراہ پر طالبان کے مسلسل حملوں اور انہیں روکنے میں وزارتِ داخلہ کی ناکامی پر بھی وزیر کو آڑے ہاتھوں لیا۔

قرارداد کی منظوری کا اعلان کرتے ہوئے افغان اسمبلی کے اسپیکر عبدالرئوف ابراہیمی نے کہا کہ وہ اسلامی جمہوریہ افغانستان کے صدر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ داخلہ امور کی وزارت کے لیے کسی اور شخص کو نامزد کریں۔

افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ انہوں نے پارلیمان کی قرارداد کو قبول یا مسترد کرنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

اپنے ایک بیان میں افغان صدر نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر ملک کی سپریم کورٹ سے قانونی رائے طلب کریں گے جب کہ اس دوران میں غلام مجتبیٰ پتنگ نگراں وزیر کے طور پر بدستور اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے ۔

اپنی تقاریر میں افغان ارکانِ پارلیمان نے وزیرِ داخلہ پر الزام عائد کیا کہ وہ پولیس میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی کو روکنے میں بھی ناکام رہے ہیں جب کہ وہ پارلیمان کی جانب سے طلب کرنےکے احکامات کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔

غلام مجتبیٰ پتنگ ایک پولیس افسر ہیں جنہوں نے پولیس کے تربیتی امور بہتر بنانے اور رضاکاروں کے لشکر تشکیل دینے جیسے اقدامات کی بدولت صدر کرزئی کے دورِ حکومت میں تیزی سے ترقی کی ہے۔

وہ لگ بھگ ایک برس سے افغانستان کے وزیرِ داخلہ کی حیثیت سے افغان پولیس کے بھی ذمہ دار ہیں جس کی کل نفری ایک لاکھ 57 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

بعض مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیرِ داخلہ نے کئی ارکانِ پارلیمان کی بدعنوانی کا پردہ چاک کیا تھا جس کے باعث قانون سازوں نے انہیں مبینہ طور پر انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا ہے۔
XS
SM
MD
LG