رسائی کے لنکس

ننگرہار: داعش کے خلاف مقامی افغانوں کا اعلان جنگ


اچین کے ضلعی گورنر، حاجی غالب نے ’وائس آف امریکہ‘ کی افغان سروس کو بتایا ہے کہ ’دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں تقریباً 600 مقامی افراد ہمارے ساتھ شریک ہوگئے ہیں‘۔۔۔۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق، ملک میں داعش کے شدت پسندوں کی تعداد اندازاً 2000 سے 3000 ہوگی

افغانستان کے مشرقی صوبہٴ ننگرہار میں سینکڑوں مقامی شہری داعش کے شدت پسندوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

اچین کے ضلعی گورنر، حاجی غالب نے ’وائس آف امریکہ‘ کی افغان سروس کو بتایا ہے کہ ’دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں تقریباً 600 مقامی افراد ہمارے ساتھ شریک ہوگئے ہیں‘۔

ضلع اچین کی سرحدین پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں، جہاں حالیہ دِنوں داعش کے شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی رپورٹیں ملی ہیں۔

غالب کے بقول، ’ابتدا میں اندازاً 1500 لڑاکے موجود تھے۔ لیکن، اُن میں سے زیادہ تر یا تو ہلاک ہوئے یا پھر ہماری افواج کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے‘۔

حالیہ مہینوں کے دوران افغانستان میں داعش کی سرکشی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر صوبہٴ ننگرہار میں، جہاں داعش کے شدت پسندوں نے افغان سکیورٹی کی چوکیوں پر کئی حملے کیے ہیں۔

بغاوت میں جمعرات کو اضافہ دیکھے جانے کے بعد، بتایا جاتا ہے کہ أفغان سلامتی افواج اور مقامی لوگوں نے ضلعہٴاچین کو داعش سے پاک کرنے کے لیے مشترکہ کارروائی شروع کی ہے۔

غالب نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ کارروائی ’بہت ہی کامیاب رہی ہے‘۔

بقول اُن کے، ’مقامی لوگ حکومت کی حمایت کر رہے ہیں، اور حکومت بھی اُن کی پشت پناہی میں برجستہ کھڑی ہے۔ ایسے میں ننگرہار میں داعش کی شکست یقینی ہے۔ اگر وہ پہاڑی سلسلے کی جانب چلے جائیں گے، پھر بھی وہ شکست سے نہیں بچ سکتے‘۔

أفغانستان کی پجووک نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ضلعے میں جاری کارروائی کے دوران داعش کے 30جنگجو ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہوئے۔ اِن میں سے متعدد افراد کے لیے بتایا جاتا ہے کہ وہ ہمسایہ پاکستان کی جانب بھاگ نکلے۔

غالب کے الفاظ میں، ’وہ پسپائی پر مجبور ہوئے، اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ وادی تیرہ بھاگ نکلے ہیں، جو ڈرانڈ لائن پر پاکستان کے جانب واقع ہے۔۔۔ اب پہاڑوں پر محض چند لڑاکے باقی ہیں،جنھیں بھی بہت جلد پسپائی پر مجبور کردیا جائے گا‘۔

پجووک کے مطابق، عام افراد کے جتھے میں شامل ارکان کو مقامی افغان پولیس (اے ایل پی) میں شامل کیا جائے گا، جب اس علاقے کو داعش کے لڑاکوں سے صاف کردیا جائے گا۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق، ملک میں داعش کے شدت پسندوں کی تعداد اندازاً 2000 سے 3000 ہوگی۔

بتایا جاتا ہے کہ دولت اسلامیہ نے افغانستان کے اُن علاقوں میں جہاں اُن کا کنٹرول ہے، نوجوان سپاہ بھرتی کیا ہے، جن کی کم عمرخواتین یا لڑکیوں سے شادیاں کرائی گئی ہیں۔

گذشتہ ہفتے، دولت اسلامیہ نے اپنی ویب سائٹ پر ہولناک تصاویر کا ایک سلسلہ شائع کیا، جن کے لیے شدت پسندوں کا کہنا ہے کہ یہ افغانستان میں کھینچی گئی ہیں، جن میں متعدد مردانہ لاشیں دکھائی گئی ہیں جو افغان فوج کی وردیاں پہنے ہوئے ہیں اور جن کے لیے دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ داعش کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہوئے۔

XS
SM
MD
LG