رسائی کے لنکس

افغانستان کےصوبے ہلمند صوبے میں گزشتہ ہفتے نیٹو افواج کی طرف سے کیے گئے راکٹ کے ایک حملے میں کم از کم 52 افغان شہری ہلاک ہو گئے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق افغان حکام نے جمعہ کو پیش آنے والے اس واقعے کی تحقیقات مکمل کر لی ہیں جس کے مطابق بڑی تعداد میں عام شہری راکٹ کے اس حملے میں زخمی بھی ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق علاقے میں نیٹو افواج اور طالبان عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والی شدید لڑائی کے باعث شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے قریب ہی ایک مٹی کے بنے ہوئے بڑے گھر میں پناہ لے رکھی تھی جب نیٹو کی طرف سے داغا گیا راکٹ اس مکان پر لگا۔

بین الا قوامی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ جمعہ کو اتحادی فوجیوں نے ضلع سنگین میں عسکریت پسندوں کے خلاف ایک کارروائی کی تھی اور اس میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کی اطلاعات کی تصدیق کے لیے ایک جائزہ ٹیم اس وقت علاقے میں موجود ہے۔

گزشتہ سال ستمبر میں شمالی صوبے قندوز میں عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران جرمن فوجیوں نے نیٹو کے ہوائی جہازوں کو مدد کے لیے بلایا تھا اور اس فضائی حملے میں 30 افغان شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

اگر ضلع سنگین میں پیش آنے والے واقعے کی بین الاقوامی افواج نے تصدیق کردی تو اس کا شمار نیٹو کے حملوں میں افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکت کے سنگین ترین واقعات میں ہو گا۔
افغانستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکتیں صدر حامد کرزئی اور بین الاقوامی اتحاد ی افواج کے درمیان کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہے اور ایسے واقعات کے خلاف افغان شہری اکثر مظاہرے بھی کرتے آئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG