رسائی کے لنکس

روس کے فوجی مشیر طالبان کی مدد کر رہے ہیں: افغان عہدیدار


افغان سکیورٹی فورسز (فائل فوٹو)

ارزگان صوبے کے ایک قبائلی راہنما حاجی عبدل باری نے وی او اے کو بتایا کہ روسی فوجی مشیروں کو ارزگان کے دارالحکومت ترین کوٹ میں دو بار دیکھا گیا ہے۔

افغانستان میں روس کے مبینہ کردار کے بارے میں ایک بار پھر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جب منگل کو ارزگان کی پولیس کے صوبائی سربراہ نے افغان میڈیا کو بتایا کہ انٹیلی جنس رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض روسی جنرل طالبان عسکریت پسندوں کو مبینہ طور پر اسلحہ اور تربیت فراہم کر رہے ہیں۔

ارزگان پولیس کے سربراہ غلام فاروق سنگری نے ’وی او اے‘ کی افغان سروس کو بتایا کہ "دو خواتین سمیت گیارہ روسیوں، جو کہ ڈاکٹروں کے لباس میں تھے انہیں طالبان محافظوں اور ایک افغان مترجم کے ساتھ صوبے کے مختلف حصوں میں دیکھا گیا ہے۔ "

"وہ لوگوں کو حکومت کے خلاف اکسانے اور انہیں بارودی سرنگین بنانے کی تربیت فراہم کر رہے تھے۔"

ارزگان صوبے کے ایک قبائلی راہنما حاجی عبدل باری نے وی او اے کو بتایا کہ روسی فوجی مشیروں کو ارزگان کے دارالحکومت ترین کوٹ میں دو بار دیکھا گیا ہے۔

طالبان کے روس کے ساتھ رابطے ایک ایسے وقت توجہ کر مرکز رہے ہیں جب ماسکو اس ملک پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا متمنی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ شدت پسند گروپ داعش کے دائر اثر کو وسط ایشیائی ریاستوں تک بڑھنے سے روکنا چاہتا ہے، جس پر ایک دور میں اس نے قبضہ کر رکھا تھا۔

افغانستان میں روس کی بڑھتی ہوئی مبینہ فوجی مداخلت کی وجہ سے امریکی اور افغان حکام کی اس بارے میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے کہ روس افغان فورسز کے خلاف اور داعش جیسے شدت پسند گروپوں کے خلاف طالبان عسکریت پسندوں کی درپردہ حمایت کر رہا ہے۔

روس طالبان کے ساتھ سیاسی روابط کو تسلیم کرتا ہے تاہم روسی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ماسکو طالبان عسکریت پسندوں کو اسلحہ اور تربیت فراہم نہیں کر رہا ہے۔

ماسکو کا موقف ہے کہ طالبان کے ساتھ ان کے رابطوں کا مقصد افغان امن عمل میں سہولت فراہم کرنا ہے۔

اختتام ہفتہ کابل میں روس کے سفارت خانے سے جاری ہونے والے بیان میں یہ کہا گیا کہ روسی فوج طالبان عسکریت پسندوں کی مدد نہیں کر رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ "یہ حیران کن ہے کہ قانون سازوں اور اعلیٰ پولیس عہدیداروں نے قیاس آرائی اور بغیر کسی شواہد کے کھلے عام روس کی خلاف دہشت گردی کی معاونت اور حمایت کرنے کے الزامات عائد کیے۔"

تاہم روس اور طالبان کے درمیان فوجی رابطوں سے متعلق الزامات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

قندوز صوبے کے گورنر نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ملک کے مختلف حصوں میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے طالبان نے روس سے اسلحہ اور تربیت فراہم کرنے کا کہا تھا۔

دوسری طرف افغان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

کابل اور واشنگٹن روس اور طالبان کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ ماسکو کے عسکریت پسند گروپ سے رابطوں کی وجہ سے ملک کی سکیورٹی کی نازک صورت حال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے گزشتہ ماہ امریکی قانون سازوں کو بتایا تھا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ روس دنیا کے اس حصے میں ایک موثر فریق بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔ میں سمجھتا ہوا کہ ممکن ہے کہ وہ (طالبان کو) کسی طرح کا اسلحہ اور دیگر چیزیں فراہم کر تا رہا ہو۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG