رسائی کے لنکس

افغانستان کا پاکستان پر ’طالبان کا ریڈ بریگیڈ‘ قائم کرنے کا الزام


پاکستان میں جنوبی افغانستان میں گڑبڑ اور بدامنی پھیلانے کے لیے طالبان کے حملہ اور گروپ قائم کیے، انہیں ہتھیار فراہم کیے۔ سابق سربراہ افغان سیکیورٹی

افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ نے پاکستان پر طالبان کی فوجی مدد کرنے اور انہیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام لگایا ہے۔

کابل میں وائس آف امریکہ کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبی نے کہا کہ پاکستان نے 2014 کے آخر میں ریڈ فورس یا ریڈ بریگیڈ کے نام سے ایک حملہ اور فوج تشکیل دینے میں طالبان کی مدد کی تھی۔ اور اس فورس نے 2015 کے شروع میں اپنی کارروائیاں شروع کر دی تھیں جب زیادہ تر بین الاقوامی فورسز ملک چھوڑ کر واپس چلی گئی تھیں اور ملک میں نگرانی کا نظام محدود ہوگیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نئی فورس کے لیے تقریباً تین ہزار لوگوں کو بھرتی کیا گیا تھا اور انہیں جنوبی أفغانستان میں لڑنے کے لیے تیار کیا گیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ریڈ فورس کے 25 /25 جنگجوؤں پر مشتمل گروپ بنائے گئے اور ہر گروپ کی نگرانی پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اہل کاروں کو سونپی گئی۔

گروپ کے ارکان کو AK-47 رائفلیں دی گئیں اور انہیں تیزی سے منتقل کیے جانے والے راکٹ لانچر یا مشین گنوں سے مسلح کیا گیا۔

أفغان خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ نے بتایا کہ ایسی علامتیں موجود ہیں کہ صوبہ فرح، هلمند، غزني اور اورزگان کی لڑائیوں میں یہی گروپ ملوث تھے۔ ان علاقوں میں طالبان اور أفغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان شديد جھڑپیں ہوئی تھیں۔

رحمت اللہ نبی نے یہ الزام بھی لگایا کہ پاکستان نے اپنے اسلحے کے کم از کم چار ڈپوؤں سے عسکریت پسندوں کے لیے ہتھیار فراہم کیے ۔ یہ وہی ڈپو ہیں جہاں سے سابق سوویت یونین کے خلاف جنگ میں مجاهدين کو گولاباردو دیا جاتا تھا۔

پاکستان اپنے پڑوسی ملک أفغانستان کے عہدے داروں کی جانب سے اس طرح کے الزامات کی سختی سے ترديد کرتا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG