رسائی کے لنکس

دفاع اور انٹیلی جنس سربراہان کی تقرریوں کی افغان پارلیمان سے توثیق


افغان پارلیمان (فائل فوٹو)

افغان پارلیمان (فائل فوٹو)

ان تقرریوں کی توثیق ایک ایسے وقت کی گئی ہے جب جنگ سے تباہ حال ملک افغانستان میں طالبان کی طرف سے پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے

افغانستان کی پارلیمنٹ نے صدر اشرف غنی کی طرف سے نامزد کردہ وزیردفاع اور انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ کی تقرریوں کی توثیق کر دی ہے۔

ستمبر 2014ء میں اتحادی حکومت کے قیام کے بعد سے ہی وزارت دفاع کے سربراہ کا منصب خالی چلا آ رہا تھا معصوم استنکزئی یہ ذمہ داریاں عبوری طور پر ادا کرتے آرہے تھے۔

صدر غنی نے جنرل عبداللہ خان حبیبی کو وزیر دفاع نامزد کیا تھا جو اپنی توثیق کے بعد اب یہ منصب سنبھال سکیں گے۔

معصوم استنکزئی کی بطور افغان انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ تقرری کی توثیق کر دی گئی ہے۔ یہ عہدہ گزشتہ دسمبر میں رحمت اللہ نبیل کے مستعفی ہونے سے خالی ہوا تھا۔

ان تقرریوں کی توثیق ایک ایسے وقت کی گئی ہے جب جنگ سے تباہ حال ملک افغانستان میں طالبان کی طرف سے پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت کو ان اہم عہدوں پر کسی کو تعینات نہ کر سکنے پر خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

ایسی اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں کہ اہم عہدوں پر تعیناتیوں کے حوالے سے صدر اشرف غنی اور اقتدار میں شریک چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان میں امور مملکت اور طرز حکمرانی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔

طالبان نے رواں موسم گرما میں اپنی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا اعلان کرنے کے بعد ملک کے خاص طور پر جنوبی حصوں میں کارروائیوں کو مہمیز کر دیا ہے اور افغان سکیورٹی فورسز کو شدت پسندوں کی طرف سے خاصی مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG