رسائی کے لنکس

موجودہ افغان پارلیمان کی مدت میں توسیع


فائل

فائل

اتوار کو پارلیمان کے خصوصی اجلاس نے صدارتی حکم نامے کی توثیق کردی جس کے بعد موجودہ پارلیمان کے آئندہ انتخابات تک کام جاری رکھنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

افغانستان کی پارلیمان نے اپنی مدت میں توسیع کے صدارتی حکم نامے کی توثیق کردی ہے جس کے بعد ملک میں آئینی بحران پیدا ہونے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے گزشتہ ہفتے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت نئے انتخابات ہونے تک موجودہ پارلیمان کی مدت میں توسیع کردی گئی تھی۔

افغان پارلیمان کی پانچ سالہ آئینی مدت 22 جون کو مکمل ہورہی تھی۔ لیکن اتوار کو پارلیمان کے خصوصی اجلاس نے صدارتی حکم نامے کی توثیق کردی جس کے بعد موجودہ پارلیمان کے آئندہ انتخابات تک کام جاری رکھنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

افغانستان میں نئے پارلیمانی انتخابات رواں سال اپریل میں ہونا تھے لیکن سکیورٹی خدشات اور انتخابی عمل کے آزادانہ اور شفاف انعقاد کے طریقہ کار پر سیاسی قوتوں کے مابین اختلافات کے باعث انتخابات ملتوی کردیے گئے تھے۔

انتخابات ملتوی ہونے کے باعث پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو دور کرنے کے لیے صدر غنی نے موجودہ پارلیمان کی مدت میں توسیع کی تجویز پیش کی تھی جسے سیاسی قوتوں اور ملک کے دیگر انتظامی اداروں نے قبول کرلیا تھا۔

جمعے کو افغان صدارتی محل کی جانب سے موجودہ پارلیمان کی مدت میں توسیع کے جاری کیے جانے والے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ صدر غنی نے یہ فیصلہ عدلیہ، مقننہ اور ریاست کی انتظامی شاخ کے ذمہ داران کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا ہے۔

لیکن بعض ارکانِ پارلیمان اور قانونی ماہرین افغان صدر کے اس اقدام کی قانونی اور آئینی حیثیت پر شکوک و شبہات ظاہر کر رہے ہیں۔

افغانستان میں گزشتہ سال ہونے والے صدارتی انتخاب میں صدر اشرف غنی اور ان کے اس وقت کے حریف اور افغان حکومت کے موجودہ چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے اپنی اپنی فتح کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد حکومت سازی کا عمل کئی ماہ تاخیر کا شکار رہا تھا۔

کئی ماہ تک جاری رہنے والے الزامات، کشیدگی اور سیاسی جوڑ توڑ کے بعد دونوں رہنماؤں نے امریکی ثالثی کے نتیجے میں مفاہمتی حکومت تشکیل دینے کے معاہدے پر اتفاق کیا تھا جس کے تحت اشرف غنی صدر اور عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹو بن گئے تھے۔

معاہدے میں آئندہ انتخابات کے انعقاد سے قبل انتخابی اصلاحات متعارف کرانے پر اتفاق کیا گیا تھا جس پر تاحال پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

دونوں فریقین کے درمیان مجوزہ اصلاحات کے لیے بنائے جانے والے کمیشن کے سربراہ کی نامزدگی پر گزشتہ کئی ماہ سے اختلافات برقرار ہیں جس کے باعث انتخابی اصلاحات کا عمل شروع نہیں ہوسکا ہے اور نئے انتخابات کا انعقاد بھی موخر کرنا پڑا ہے۔

کابل کے صدارتی محل کا کہنا ہے کہ پارلیمانی انتخابات کی نئی تاریخ کا اعلان ایک ماہ میں کردیا جائے گا۔ لیکن صدارتی محل کے اس بیان پر چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے اپنے اختلاف کا اظہار کیا ہے۔

چیف ایگزیکٹو کے ایک ترجمان جاوید فیصل کا کہنا ہے کہ مجوزہ کمیشن کے لیے اپنا کام مکمل کرنے اور حکومت کو انتخابی اصلاحات تجویز کرنے کے لیے ایک ماہ کا وقت کافی نہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ جب تک اصلاحات کا عمل مکمل نہیں ہوجاتا اس وقت تک انتخابات کی تاریخوں کا اعلان نہیں کیا جاسکتا۔

XS
SM
MD
LG