رسائی کے لنکس

امن جرگہ: طالبان نے اہم اہداف پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے


افغان حکام نے بدھ کے روز جنوبی افغانستان میں شادی کی ایک تقریب پر حملے کا الزام طالبان پر عائد کیا ہے ۔ اس حملے میں تقریباً 40 افراد ہلاک ہو ئے

اس مہینے کے شروع میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے امن جرگے کے بعد سے اب تک طالبان نے اہم اہداف پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے ۔

اِس دوران، ملک میں اعلیٰ ترین امریکی کمانڈر، جنرل اسٹینلے میک کرسٹل نے کہا ہے کہ جنوب میں طالبان کے خلاف جنگ میں پچھلے اندازوں کے مقابلے میں زیادہ وقت لگے گا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس ہفتے طالبان نے کئی اہم اہداف پر جو حملے کیےس ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں قندھار کے جنوبی صوبے سے نکالنے کے لیئے اتحادی اور افغان فورسز جس بڑ ے حملے کی تیاریاں کر رہی ہیں، اس کے باوجود طالبان پسپائی اختیار نہیں کریں گے ۔

افغان حکام نے بدھ کے روز جنوبی افغانستان میں شادی کی ایک تقریب پر حملے کا الزام طالبان پر عائد کیا ہے ۔ اس حملے میں تقریباً 40 افراد ہلاک ہو ئے تھے ۔طالبان نے اس الزام سے انکار کیا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دولہا کا تعلق طالبان مخالف گروپوں سے تھا۔ افغانستان میں بین الاقوامی فوجوں کے لیئے پیر کا دن اس سال کا مہلک ترین دن ثابت ہوا۔ اس روز ملک کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں الگ الگ حملوں میں، نیٹو کے دس سپاہی ہلاک ہو ئے جن میں سے سات امریکی تھے ۔

افغانستان کے سینٹر فار ریسرچ اینڈ پالیسی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر، ہارون میر نے اس نئے تشدد کی روشنی میں، وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کے خیال میں اگلے مہینے کابل میں جو بین الاقوامی کانفرنس ہونے والی تھی، وہ اب نہیں ہوگی۔

انھوں نے کہا: ‘میرے خیال میں یہ بات مناسب نہیں ہو گی کہ یورپ سے کوئی وزیرِ خارجہ کابل کانفرنس میں شرکت کے لیئے آئے کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ اس بات کا شدید خطرہ موجود ہے کہ راکٹ کے ایک حملے سے سب کچھ برباد ہو سکتا ہے۔ صرف ایک راکٹ کافی ہو گا اور یہ تمام وزرائے خارجہ اپنے اپنے ملکوں کو واپس چلے جائیں گے اور یہ بڑی شرمندگی کی بات ہو گی۔’

افغانستان میں اعلیٰ ترین امریکی کمانڈر ، جنرل میک کرسٹل تک یہی کہہ رہے ہیں کہ قندھار کی مہم میں توقع سے زیادہ وقت لگے گا۔ ان کے الفاظ ہیں:‘آنے والے دن بڑے مشکل ہوں گے۔ تشدد میں اضافہ ہو گیا ہے اور میرے خیال میں ، خاص طور سے گرمیوں کے مہینوں میں، تشدد میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ یہ بات اہم ہے کہ طالبان کا زور توڑنے کے لیئے ہم مستقبل میں سیکورٹی کو بہتر بنائیں۔’

لیکن جنرل میک کرسٹل کہتے ہیں کہ تشدد کے باوجود، ان کے خیال میں اس تاثر میں تبدیلی آ رہی ہے کہ طالبان زیادہ طاقتور ہو رہےہیں۔صدر کرزئی اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ تبدیلی ہی طالبان کو امن مذاکرات کے لیئے قائل کرے گی۔ لیکن، عمراللہ صالح اس خیال سے متفق نہیں۔ صالح افغان نیشنل سیکورٹی ڈائریکٹریٹ کے سابق سربرا ہ ہیں۔انھوں نے اس مہینے کے شروع میں امن جرگے پر باغیوں کے حملے کے بعد ملک کے وزیرِ داخلہ کے ساتھ استعفیٰ دے دیا تھا۔ صالح نے مسٹر کرزئی پر تنقید کی کہ وہ طالبان کے ساتھ مفاہمت کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ عزت کے ساتھ امن چاہتے ہں۔۔ ‘ ایسا امن جس میں ہم وہ سب کھو نہ دیں جو ہم نے اب تک حاصل کیا ہے ۔ایسا امن جس سے ہمارے آئین کو نقصان نہ پہنچے، ایسا امن جس میں دہشت گردوں کا چھوٹا سا گروپ ہمارے سیاسی منظر پر غلبہ حاصل نہ کرلے ۔میں امن کے حق میں ہوں، لیکن میں طالبان کے سامنے سر جھکانے کے خلاف ہوں۔’

انھوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان کے ساتھ سودے بازی کی غرض سے، صدر کرزئی نے پاکستان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کر لیا ہے ۔ صالح نے پاکستان کو افغانستان کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا کیوں کہ وہ مبینہ طور پر طالبان کی مدد کر رہا ہے ۔

ایاز وزیر کابل میں پاکستان کے سابق سفیر ہیں۔ انھوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ صالح کی رائے سے متفق نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ معلوم نہیں کہ اب اس قسم کے بیانات سے وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں خاص طور سے اس وقت جب وہ استعفیٰ دے چکے ہیں۔

ان کے الفاظ ہیں:‘اگر پاکستان سب سے بڑا دشمن ہے تو پھر افغانستان کی انٹیلی جینس کے سربراہ نے یہ بات اس سے پہلے کیوں نہیں کہی؟ اب جب کہ وہ استعفیٰ دے چکے ہیں تو وہ ہمسایہ ملک پر الزام لگا رہے ہیں۔’

ادھر برطانیہ کی نئی منتخب حکومت نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے لیئے مزید فوجیوں کا وعدہ نہیں کرے گی، اگرچہ برطانیہ 2001 میں طالبان کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے اب تک امریکہ کا سب سے بڑا شراکت دار رہا ہے ۔ افغانستان کے سینٹر فار ریسرچ اینڈ پالیسی اسٹڈیز کے ہارون میر کہتے ہیں کہ ان تمام باتوں سے طالبان کو اہم سبق ملتا ہے ۔

وہ کہتے ہیں کہ دو تین راکٹ داغنے سے، انھوں نے دو اہم وزیروں کے استعفے حاصل کر لیئے، اور اب ایسا لگتا ہے کہ نیٹو کے ملک حوصلہ ہار چکے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ اگر طالبان یہ محسوس کریں گے کہ انہیں اتحادیوں اور ایک غیر موئثر حکومت کے مقابلے میں بالا دستی حاصل ہے ، تو وہ مذاکرات کرنے پر آمادہ ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG