رسائی کے لنکس

صدر اشرف غنی نے یہ بیان افغانستان کے دورے پر آئے ہوئے نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں کہی۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے منگل کو کہا کہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کے باعث شدت پسند تنظیم ’داعش‘ ملک میں پسپا ہو رہی ہے۔

اُنھوں نے پاکستانی سرحد کے قریب مشرقی افغان صوبے ننگرہار کے اضلاع میں ’داعش‘ کے حامیوں کے خلاف کامیابی کو زمینی و فضائی افواج اور ریٹائرڈ کمانڈروں کے نام کیا، جنہوں نے فوج کے ایلیٹ کمانڈو ڈویژن کے ساتھ مل کر یہ کارروائیاں کیں۔

صدر اشرف غنی نے یہ بیان افغانستان کے دورے پر آئے ہوئے نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں دیا۔

حالیہ مہینوں میں ’داعش‘ کے جنگجوؤں نے افغانستان میں اپنے قدم جمانے کی کوششیں تیز کیں، خاص طور پر صوبہ ننگر ہار میں جہاں اُنھوں نے کئی علاقوں پر کنٹرول بھی کیے رکھا۔

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگر ہار میں داعش کے خلاف افغان فورسز کو کارروائیوں کے دوران امریکی افواج کی طرف سے فضائی مدد بھی فراہم کی جاتی رہی۔

افغان عہدیداروں کے مطابق ’داعش‘ سے وفاداری کا اعلان کرنے والے جنگجوؤں میں سے بیشتر کا تعلق طالبان عسکریت پسندوں سے رہا ہے۔

دسمبر 2014ء میں افغانستان سے بیشتر بین الاقوامی افواج کے انخلاء کے بعد شدت پسندوں کے حملوں میں تیزی آئی جس سے افغان فورسز دباؤ کا شکار ہیں۔

امریکی عہدیدار یہ کہتے رہے ہیں کہ افغانستان میں ’داعش‘ کے جنگجوؤں کی تعداد لگ بھگ تین ہزار تک ہو سکتی ہے۔

افغانستان میں ’داعش‘ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر پاکستان میں بھی بعض حلقے تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

پاکستان اگرچہ داعش کی ملک میں منظم موجودگی کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے تاہم حکام یہ تسلیم کرتے ہیں کئی شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں خود کو فعال ظاہر کرنے کے لیے ’داعش‘ کا نام استعمال کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG