رسائی کے لنکس

سوتیلے بھائی کا قتل افغان صدر کے لیے ایک دھچکا

  • گیری تھامس

صدر حامد کرزئی اور ولی کرزئی (فائل فوٹو)

صدر حامد کرزئی اور ولی کرزئی (فائل فوٹو)

افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے سوتیلے بھائی کے قتل سے افغانستان کے سیاسی منظر سے ایک اہم شخصیت رخصت ہو گئی ہے ۔ احمد ولی کرزئی صوبہ قندھار کی سب سے طاقتور شخصیت تھے اور ان کی موت سے صدر کرزئی کے اقتدار کو سخت دھچکا لگا ہے۔

احمد ولی کرزئی قندھار کی صوبائی کونسل کے سربراہ تھے لیکن ان کے اختیارات صوبائی گورنر سے کہیں زیادہ تھے۔ اس علاقے میں جہاں طالبان کی شورش زوروں پر ہے، وہ اقتصادی اور سیاسی طور پر بہت با اثر تھے ۔افغانستان میں نیٹو کے سنیئر سویلین نمائندے، سفیر سائمن گاس کہتے ہیں کہ ولی کرزئی کی موت سے ، افغان صدر کو سیاسی طور پر اور ذاتی حیثیت میں شدید دھچکا لگا ہے۔’’قندھار کی سیاست میں احمد ولی کرزئی بڑی بھاری بھرکم شخصیت کے مالک تھے ۔ وہ صدر کے بھائی تھے اور ان کی موت ذاتی طور پر صدر کے لیے بہت بڑا نقصان ہے ۔ قندھار کی سیاست میں خلا پیدا ہو جائے گا۔ لیکن اس شہر میں صدر کے اور بھی بہت سے حامی ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ یہ صدمہ برداشت کر لیں گے اور اپنی طاقت بحال کر لیں گے۔‘‘

یو ایس آرمی وار کالج کے لیری گڈ سن کہتے ہیں کہ ولی کرزئی کی موت سے صدر ایک اہم اتحادی سے محروم ہو گئے ہیں جو انہیں انتخاب میں بہت سے ووٹ دلا سکتا تھا اور پشتون ووٹروں کو ان کی حمایت پر آمادہ کر سکتا تھا۔’’ان کی بعض سرگرمیوں کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا رہا ہے، اس کے باوجود، ان کی یہ صلاحیت بہت اہم تھی کہ انھوں نے اس علاقے پر جو کرزئی کے مخالفین کا گڑھ ہے، ان کا اقتدار مضبوط کر دیا تھا۔ اور اب یہ صورت حال باقی نہیں رہے گی۔‘‘

اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرتے ہوئے گڈ سن کہتے ہیں کہ صدر کرزئی اپنے عہدے پر قائم رہنے کے طریقے تلاش کر تے رہے ہیں۔ ان کے عہد صدارت کی دوسری مدت 2014 میں ختم ہو جائے گی، اور یہی وہ سال ہے جب امریکی فوجوں کی واپسی مکمل ہونی ہے۔ قانوناً صدر کرزئی تیسری مدت کے لیے صدارت کا انتخاب نہیں لڑ سکتے ۔

گڈ سن کہتے ہیں کہ ولی کرزئی کی موت سے، ان کے سوتیلے بھائی کے یہ منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے کہ آئین میں ترمیم کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے، اقتدار ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔’’میرا خیال ہے کہ حامد کرزئی کا منصوبہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ صدارت کی دو مدتوں کی آئینی حد کے بعد صدارت پر قائم رہنے کا کوئی طریقہ معلوم کیا جائے ۔ وہ آئین میں ترمیم کرنے اور اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کا کوئی طریقہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس کوشش میں احمد ولی کا رول بے حد اہم تھا۔‘‘

لیکن بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ولی کرزئی کی موت سے صدر کی ایک مشکل آسان ہو گئی ہے۔ اب انہیں اپنے سوتیلے بھائی کے طرز عمل کے بارے میں بعض مغربی سفارتکاروں کی شکایتوں کا جواب نہیں دینا پڑے گا ۔

بہت سے مغربی سفارتکاروں کی نظر میں، ولی کرزئی افغانستان میں کرپشن کا بڑا اچھا نمونہ تھے ۔ ایک سابق امریکی عہدے دار نے جنہیں افغانستان کا وسیع تجربہ ہے اور جنھوں نے کہا کہ ان کا نام ظاہر نہ کیا جائے، بتایا کہ صحیح یا غلط، افغانستان میں ہر ایک کا یہی خیال تھا کہ ولی کرزئی ، بقول ان کے، جرائم پیشہ، منشیات کا اسمگلر، چور اور ٹھگ تھا۔ وہ نوابوں کو طرح اپنا دربار لگا تا تھا جس میں سفارتکار اور جنرل پیش ہوتے تھے ۔ اس پر کرپشن، اور منشیات کی تجارت کے الزامات لگائے جاتے رہتے تھے۔ اس نے ان الزامات کی صحت سے ہمیشہ انکار کیا۔ اس پر یہ الزام بھی تھا کہ وہ سی آئی اے کا تنخواہ دار تھا۔ اس نے اس الزام کی بھی تردید کی تھی۔

حقیقت چاہے کچھ ہی کیوں نہ ہو، افغان اب یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ قندھار میں کیا ہوتا ہے ۔ لیری گڈ سن کہتے ہیں کہ حالات خاصے خراب ہو جائیں گے۔’’میرے خیال میں امکان یہی ہے کہ قندھار پر اقتدار کے لیئے بہت سے دعویداروں کے درمیان اقتدار کی کشمکش شروع ہو جائے گی۔ طالبان اس جوڑ توڑ میں شریک ہو جائیں گے۔ اور شاید اس عمل میں خونریزی ہوگی۔ جنوب میں کرپشن میں بھی اضافہ ہو گا کیوں کہ لوگ اس کشمکش کے نتیجے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں گے۔ میرے خیال میں مختصر اور درمیانی مدت میں، حالات بہت خراب ہو جائیں گے۔‘‘

طالبان قندھار میں اب بھی سرگرم ہیں۔ نیٹو کے سفیرسائمن گاس کہتے ہیں کہ ولی کرزئی کا قتل، اگر یہ واقعی طالبان نے کیا ہے، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ مایوس ہو چلے ہیں۔’’میں سمجھتا ہوں کہ باغیوں کی اعلیٰ افغان لیڈروں کو نشانہ بنانے کی پالیسی سے الٹا ان کو ہی نقصان پہنچ رہا ہے ۔ اس پالیسی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں جنگ میں اتنی کم کامیابی ہو رہی ہے کہ وہ اب افراد کے خلاف حملے کرنے لگے ہیں، اور بعض مخصوص شہروں پر بڑے حملے کر رہے ہیں۔‘‘

اوباما انتظامیہ نے گذشتہ سال امریکی فوجوں میں اضافے کا جو حکم دیا تھا، اس میں بیشتر توجہ قندھار پر دی گئی تھی۔ تجزیہ کاروں کو تشویش ہے کہ احمد ولی کرزئی کی موت کے بعد طاقت کا جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے پُر کرنے کے لیے جو خونی کشمکش ہو گی، نیٹو کی فوجیں اس میں بیچ میں پھنس کر رہ جائیں گی۔

XS
SM
MD
LG