رسائی کے لنکس

اشرف غنی گزشتہ برس افغانستان کا منصب صدارت سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے سرکاری دورہ امریکہ کے سلسلے میں اوائل ہفتہ واشنگٹن پہنچے تھے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی صدر اوباما سے ملاقات کے ایک دن بعد بدھ کو امریکی کانگریس کے ایک مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ اس ملاقات میں صدر اوباما نے کہا تھا کہ افغانستان کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ابھی ’’بہت سا کام‘‘ باقی ہے۔

منگل کو وائٹ ہاؤس میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں صدر اوباما نے کہا تھا کہ افغانستان میں تعینات 9800 امریکی فوجی سال کے آخر تک وہاں رہیں گے۔ اس سے پہلے امریکہ کا منصوبہ تھا کہ وہ اس سال کے آخر تک افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں مزید تخفیف کرکے اس کو نصف کر دے گا۔ فوج کی درخواست پر صدر اوباما نے اس منصوبے میں ترمیم کا اعلان کیا تھا۔

صدر اوباما نے کہا کہ، ’’افغانستان اب بھی خطرناک جگہ ہے، جہاں باغی حملے ہوتے ہیں، جن میں شہری آبادی کے خلاف بزدلانہ خودکش حملے بھی شامل ہیں‘‘۔

امریکہ نے افغانستان میں جنگی کارروائیوں کا اختتام کر دیا ہے مگر صدر غنی نے امریکہ سے فوج کی واپسی کی تاریخوں میں لچک کی گزارش کی تھی جو ابھی بھی افغان افواج کو تربیت اور مشاورت فراہم کر رہی ہیں۔ تاہم فوج کی تخفیف کی رفتار کم کرنے کے باوجود صدر اوباما 2017 کے اوائل تک افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 1,000 سے بھی کم کرنے کے عزم پر قائم ہیں۔

صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے فوج کی واپسی کی تاریخوں میں لچک سے ملک میں جاری اصلاحات کو تیز تر کرنے، افغان افواج کی قائدانہ صلاحیت کو بہتر کرنے، ان کی استعداد بڑھانے، ان کو سازوسامان سے لیس کرنے اور اپنے بنیادی مشن پر مرکوز رہنے میں مدد ملے گی۔

اشرف غنی گزشتہ برس افغانستان کا منصب صدارت سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے سرکاری دورہ امریکہ کے سلسلے میں اوائل ہفتہ واشنگٹن پہنچے تھے۔

مبصرین جنگ سے تباہ حال ملک افغانستان میں امن و استحکام اور وہاں جاری اصلاحاتی کوششوں کے سلسلے میں اس دورے کو خاصا اہم قرار دے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG