رسائی کے لنکس

افغان مفاہمتی عمل میں پاکستان کی حمایت درکار: سفارتی ترجمان


افغان صدر حامد کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی

کابل کی طرف سے حال ہی میں شریف انتظامیہ پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ افغان مصالحتی عمل کے ذریعے پاکستان سے ملحقہ افغان صوبوں میں طالبان کی حکومت چاہتے ہیں۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی پیر کو ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جہاں سرکاری حکام کے مطابق پاکستانی رہنماؤں سے ملاقات میں تعطل کا شکار افغان مفاہمتی عمل، سیکورٹی اور دیگر باہمی تعلقات سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔

ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ افغان صدر حامد کرزئی کی پیر کو اسلام آباد آمد پراپنے پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری، وزیراعظم نواز شریف اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں طے ہیں۔

11 مئی کے عام انتخابات میں نواز شریف کی حکومت بننے کے بعد صدر کرزئی کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے اور بعض مبصرین آئندہ سال سیاسی اور سیکورٹی اعتبار سے افغانستان میں رونما ہونے والی متوقع تبدیلیوں کے پیش نظر اس دورے کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔

2014 میں وہاں صدارتی انتخابات ہونے ہیں اور افغانستان کے آئین کے مطابق حامد کرزئی تیسری مدت کے لیے صدر منتخب نہیں ہوسکتے جبکہ اسی سال اس ملک سے بین الاقوامی افواج کا انخلاء بھی مکمل ہو گا۔

اسلام آباد میں افغان سفارت خانے کے ترجمان زرداشت شمس نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ صدر کرزئی اپنی ملاقاتوں میں پاکستانی رہنماؤں سے افغان مفاہمتی عمل کی حمایت طلب کرتے ہوئے چاہیں گے کہ اسلام آباد طالبان کو افغان امن کونسل سے مذاکرات کرنے پر آمادہ کرے۔

افغان صدر کا ’’پیغام تو دوستی کا ہے مگر یہ دوستی اور اس کی بقا بھی اس علاقے میں امن سے وابستہ ہے۔ تو پیغام کے ساتھ ساتھ اس کے کچھ تقاضے اور کچھ خواہشیں ہیں کہ یہ کام ہو جائیں تو یہ دوستی پائیدار اور دیرپا ہوگی اور وہ یہ ہے کہ مصالحتی عمل کی حمایت کی جائے۔‘‘

پاکستانی حکام اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان قطر میں مذاکرات کے لیے اسلام آباد نے کلیدی کردار ادا کیا تھا اگرچہ افغانستان کی طرف سے چند اعتراضات پر وہ بات چیت شروع نا ہوسکی۔

کابل کی طرف سے حال ہی میں شریف انتظامیہ پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ مصالحتی عمل کے ذریعے پاکستان سے ملحقہ افغان صوبوں میں طالبان کی حکومت چاہتے ہیں۔ تاہم افغان سفارت خانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ماضی کو بھلاتے ہوئے بہتر مستقبل کے لیے دونوں ممالک کو کوششیں کرنا ہونگی۔

’’پاکستان بھی سیکورٹی کے مسئلے سے دوچار ہے تو بہتر ہے کہ اس مصالحتی عمل کی حمایت کی جائے۔ افغانستان میں نا صرف حکومت بلکہ عوام امید کرتے ہیں کہ اس سفر میں پاکستان نیک نیتی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں بھرپور تعاون کرے گا۔‘‘

موجودہ پاکستانی حکومت کی طرف سے بھی اس بات کو واضح کیا جاچکا ہے کہ اسلام آباد افغانستان میں کسی مخصوص گروہ کی حمایت نہیں کرتا اور وزیراعظم نواز شریف مفاہتی عمل میں تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں قیام امن پاکستان کے مفاد میں ہے۔

دریں اثناء افغان وزیر خزانہ ڈاکٹر حضرت عمر ذخیل وال کی اسلام آباد میں اتوار کو اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ملاقات ہوئی جس میں سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اقتصادی اور تجارتی تعاون بڑھانے پر بات چیت کی جارہی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کا سالانہ حجم 2.44 ارب ڈالر ہے اور دونوں ہمسایہ ممالک 2015 تک اسے 5 ارب ڈالر تک بڑھانے پر رضامند ہوچکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG