رسائی کے لنکس

اتحادی حکومت نہیں بنائیں گے، افغان صدارتی امیدوار


ڈاکٹر اشرف غنی

ڈاکٹر اشرف غنی

اشرف غنی کی جانب سے اپنے حریف عبداللہ عبداللہ کے ساتھ شراکتِ اقتدار کی قیاس آرائیوں کی تردید کے بعد افغانستان کے مستقبل پر چھائے غیر یقینی کے بادل ایک بار پھر گہرے ہوگئے ہیں۔

افغانستان کے صدارتی امیدوار اشرف غنی نے اپنے حریف عبد اللہ عبداللہ کے ساتھ اتحادی حکومت کے قیام کے امکان کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

ہفتے کو کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اشرف غنی نے واضح الفاظ میں ان قیاس آرائیوں کی تردید کی کہ وہ انتخابی عمل میں آنے والے تعطل کو دور کرنے کے لیے حریف امیدوار عبداللہ عبداللہ کے ساتھ مل کر حکومت بنانے پر آمادہ ہوگئے ہیں۔

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ لوگ ان کی جانب سے کوئی سمجھوتہ کرلینے سے متعلق قیاس آرائیوں پر تشویش کا شکار ہیں اور ان سے سوال کر رہے ہیں۔ لیکن، ان کے بقول، ہمارا جواب واضح ہے کہ نہ ہم نے کوئی سمجھوتہ کیا ہے اور نہ ہم لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفادات کو مقدم رکھنا ہے۔

اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ 14 جون کو ہونے والے افغان صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں ایک دوسرے کے مدِ مقابل تھے۔

لیکن ووٹوں کی گنتی کے دوران اشرف غنی کو زیادہ ووٹ پڑنے کی غیر سرکاری اور غیر مصدقہ اطلاعات کے بعد عبداللہ عبداللہ اور ان کے حامیوں نے انتخابی عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے گنتی کا بائیکاٹ کردیا تھا۔

بائیکاٹ کے بعد سے دونوں فریق ایک دوسرے پر انتخابی عمل میں دھاندلی کرنے اور نتائج تبدیل کرانے کے الزامات عائد کر رہے ہیں جس کے باعث انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔

انتخابی عمل میں آنے والے اس تعطل کے بعد افغانستان کے 'آزاد الیکشن کمیشن' نے انتخابات کے نتائج کا اعلان موخر کردیا تھا جس کے بعد ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی تھی کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان شراکتِ اقتدار کے کسی انتظام پر گفت و شنید ہورہی ہے۔

لیکن اشرف غنی کی جانب سے ان قیاس آرائیوں کی تردید کے بعد افغانستان کے مستقبل پر چھائے غیر یقینی کے بادل ایک بار پھر گہرے ہوگئے ہیں جو افغانستان سے انخلا کے لیے پر تولتے امریکہ اور نیٹو اتحادیوں کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں۔

XS
SM
MD
LG