رسائی کے لنکس

رقوم کی فراہمی، اخباری الزام پر افغان صدر کے دفتر کا بیان


فائل

فائل

کرزئی کے دفتر کے مطابق، یہ امداد ’مختلف مقاصد‘ کے لیے استعمال ہوئی، جِس میں زخمی و بیمار افغانوں کی اعانت کا معاملہ شامل تھا۔ بیان میں سی آئی اے کا کوئی تذکرہ نہیں، جب کہ وائٹ ہاؤس نے اِس پر تبصرے سے انکار کیا ہے

افغان صدر حامد کرزئی کے دفتر کا کہنا ہے کہ گذشتہ عشرے کے دوران حکومت امریکہ کی طرف سے، اُن کے بقول، ’چھوٹی سی رقم‘ موصول ہوئی ، جب کہ افغانستان کی تعمیر ِنو پر واشنگٹن نے اربوں کی رقوم خرچ کیں۔

کابل کی طرف سےپیر کو جاری ہونے والا یہ بیان ’نیو یارک ٹائمز‘ میں چھپنے والے اُس مضمون کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی نے گذشتہ 10برسوں کے دوران رقوم سے بھرے تھیلے بھیجے تھے، جِن کا مقصدمبینہ طور پرافغانستان پر اثر انداز ہونا تھا۔

خلیل رومان نے، جو 2002ء سے 2005ء تک صدر کرزئی کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف رہ چکے ہیں، وائس آف امریکہ سے ’خفیہ ذرائع سے ملنے والی‘ اِن رقوم کی تصدیق کی ۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ اُنھیں اِس بات کا علم نہیں آیا یہ رقوم کس مقصد کی خاطر صرف ہوئیں۔

کرزئی کے دفتر کے مطابق، یہ امداد ’مختلف مقاصد‘ کے لیے استعمال ہوئی، جِس میں زخمی و بیمار افغانوں کی اعانت کا معاملہ شامل تھا۔ بیان میں سی آئی اے کا کوئی تذکرہ نہیں، جب کہ وائٹ ہاؤس نے اِس پر تبصرے سے انکار کیا ہے۔


’نیو یارک ٹائمز ‘ نے اپنی رپورٹ میں اِن دسیوں لاکھوں ڈالروں کی تفصیل دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ رقوم صندوقوں، پیٹھ پر لادنے والے تھیلوں، یا پھر کبھی کبھار پلاسٹک کے شاپنگ بیگس میں ہوا کرتی تھیں، اور ہر ماہ کی طرح افغان صدر کے دفتر کے حوالے ہوتی تھیں۔ تاہم، اخباری مضمون میں بتایا گیا ہے کہ اِس بات کا کوئی ثبوت نہیں آیا إِس رقم میں سے کچھ ذاتی طور پر مسٹر کرزئی کو موصول ہوئیں۔
XS
SM
MD
LG