رسائی کے لنکس

نیٹو افواج نے ہفتہ کو صُبح سویرے افغانستان کے شمالی بدخشان صوبے میں آپریشن کرکے اُن دو غیر ملکی خواتین ڈاکٹروں سمیت چار افراد کو بازیاب کرا لیا جنہیں مشتبہ عسکریت پسندوں نے یرغمال بنا رکھا تھا۔

سوئٹزرلینڈ میں قائم ’مِڈ ائر‘ نامی غیر سرکاری فلاحی تنظیم کے ان ملازمین کو مسلح افراد نے 22 مئی کو اُس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی غرض سے سنگلاخ پہاڑیوں پرمشتمل اس افغان صوبے کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی طرف جا رہے تھے۔

اتحادی افواج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں افغانستان میں نیٹو افواج کے امریکی سربراہ جنرل جان ایلن نے اس کارروائی میں معاونت پر افغان وزیر داخلہ اور اُن کی وزارت کا شکریہ ادا کیا ہے۔

’’آج صبح کی اتحادی افواج کی کارروائی طالبان کو شکست دینے کے ہمارے مشترک اور غیر متزلزل عزم کی مصدقہ مثال ہے۔‘‘

اغوا کار یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تاوان کا مطالبہ کر رہے تھے اور اطلاعات کے مطابق اُن کا تعلق جرائم پیش گروہوں سے تھا جو اس دشوار گزار علاقے اوریہاں پر ریاست کی کمزور گرفت کا فائدہ اٹھا کر ایسی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

سوئس امدادی تنظیم کے کارکن اپنے دو افغان ساتھیوں کے ہمراہ گدھوں پر سوار دور دراز ضلع یاوان میں ایک کلینک کا دورہ کرنے جارہے تھے کیونکہ سیلاب کے باعث علاقے کی سڑک تباہ ہوچکی ہے۔
اس صوبے کے دارالحکومت فیض آباد اور بعض دیگر اضلاع میں سیکورٹی کی ذمہ داریاں بین الاقوامی افواج سے افغانوں کو منتقل کی جاچکی ہیں۔

طالبان حکومت کے خلاف 2001 کے اواخر میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد سے افغانستان کے بعض حصوں میں غیر ملکیوں کے اغوا کے واقعات معمول بن گئے ہیں۔

بدخشان صوبے میں 2010 میں طب کے شعبے سے تعلق رکھنے والے دس غیر ملکی رضاکاروں بشمول چھ امریکیوں کوایک حملے میں ہلاک کردیا گیا تھا جس کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی گئی تھی۔

لندن میں دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایساف (اتحادی) افواج بشمول برطانوی اہلکاروں نے ایک سوچ بچار سے تیار کردہ منظم منصوبے کے تحت کارروائی کر کے برطانوی ڈاکٹر ہلن جانسٹن، کینیا سے تعلق رکھنے والی اُن کی ساتھی موراگوا اوآئرر کو دو افغان امدادی کارکنوں سمیت اغواکاروں سے کامیابی سے بازیاب کرالیا۔

’’یہ سب اب بالکل محفوظ ہیں۔ ہلن اور موراگوا کی کابل میں برطانوی سفارت خانہ معاونت کررہا ہے۔ دونوں افغان امدادی کارکن بھی اپنے خاندانوں کے پاس واپس بدخشان جارہے ہیں۔‘‘

XS
SM
MD
LG