رسائی کے لنکس

افغان مہاجرین کو زبردستی واپس نا بھیجا جائے: ایچ آر ڈبلیو


فائل فوٹو

فائل فوٹو

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری کہتے ہیں کہ ’’ہم ابھی بھی چاہیں گے کہ زور زبردستی یا کوئی ایسا ماحول نا بنے، کہ پاکستان کی گزشتہ 30 سال کی میزبانی کے بارئے کوئی غلط تاثر بنے۔۔‘‘

انسانی حقوق کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم ’ہیومین رائٹس واچ‘ نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کے لیے زبردستی نا کرے۔

تنظیم کی طرف سے جاری ایک بیان میں پاکستان سے کہا گیا کہ وہ افغان مہاجرین کے ملک میں قیام کی مدت میں کم از کم دسمبر 2017 تک توسیع کرے۔

’ہیومین رائٹس واچ‘ کے مطابق حال ہی میں پاکستان کی طرف سے سخت اقدامات کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں افغان مہاجرین اپنے وطن واپس گئے۔

اس سے قبل بھی انسانی حقوق کی تنظیموں اور خود افغان مہاجرین کی طرف سے ایسے تحفظات سامنے آئے کہ اُنھیں پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان سے وطن واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کی تعداد میں رواں سال جولائی سے غیر معمولی تیزی دیکھی گئی اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد افغان مہاجرین پاکستان سے اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔

واپسی کے عمل میں تیزی کی ایک وجہ یہ بھی تھی پاکستان نے افغان مہاجرین کے ملک میں قیام کی مدت 31 دسمبر 2016 تک مقرر کر رکھی تھی، لیکن گزشتہ ہفتے ہی وزیراعظم نواز شریف نے اس مدت میں مزید توسیع کا فیصلہ کرتے ہوئے اسے مارچ 2017 تک بڑھا دیا تھا۔

وزیراعظم نواز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ قومی سطح کی سیاسی جماعتوں کی قیادت اور افغان نمائندوں سے مشاورت کر کے افغان پناہ گزینوں کے تحفظات دور کیے جائیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کو کسی بھی طرح سے خوفزدہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے نمائندوں کا یہ موقف رہا ہے کہ مہاجرین کو اپنے ملک واپسی کے لیے مناسب مہلت دی جائے کیوں کہ بڑی تعداد میں افغان شہریوں نے پاکستان میں اپنے کاروبار شروع کر رکھے ہیں اور مختصر وقت میں اُن کے لیے اپنا کاروبار ختم کرنا اور جائیدادیں فروخت کرنا ممکن نہیں۔

بعض سیاسی جماعتوں بشمول جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے بھی یہ کہا گیا تھا کہ اگر افغان مہاجرین کو زبردستی اُن کے ملک واپس بھیجا گیا تو اُن کے بقول تین دہائیوں سے زائد وقت تک پاکستان کی طرف سے اُن کی جو میزبانی کی گئی وہ بھلا دی جائے گی۔

ہیومین رائٹس واچ کے حالیہ بیان پر حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستانی حکومت اور عوام نے اقتصادی و معاشی مشکلات کے باوجود اپنی بساط سے بڑھ کر افغان مہاجرین کی میزبانی کی۔

’’ہم ابھی بھی چاہیں گے کہ زور زبردستی یا کوئی ایسا ماحول نا بنے، کہ وہ جو گزشتہ 30 سال میزبانی ہے اُس کے بارئے کوئی غلط تاثر بنے۔۔۔۔ مشکل ترین حالات میں افغان مہاجرین کے قیام میں کئی بار توسیع کی ہے۔ ‘‘

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یعنی ’یو این ایچ سی آر‘ کے مطابق واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کو ادا کی جانے والی رقم رواں سال 200 ڈالر فی کس سے بڑھا 400 ڈالر فی کس کر دی گئی ہے، اور بظاہر امدادی رقم بڑھانے سے بھی واپس جانے والے افغان مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

پاکستان میں سرکاری اندازوں کے مطابق تقریباً 15 لاکھ افغان پناہ گزین اپنے کوائف کے اندراج کے ساتھ قانونی طور پر یہاں مقیم ہیں جب لگ بھگ اتنی ہی تعداد میں افغان باشندے غیر قانونی طور پر ملک کے مختلف حصوں میں رہ رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG