رسائی کے لنکس

افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق پالیسی کی منظوری


فائل فوٹو

پاکستان میں تین دہائیوں سے زائد عرصے سے مقیم افغان پناہ گزینوں کی اُن کے اپنے ملک واپسی سے متعلق ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کا عمل ہوتا رہا ہے۔

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے افغان مہاجرین کی وطن واپسی اور اُن سے متعلق ایک انتظامی پالیسی کی منظوری دی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں منگل کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈے پر سرفہرست معاملہ پاکستان میں افغان مہاجرین کے قیام سے متعلق ہی تھا۔

کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ بغیر ویزے کے افغانوں کے پاکستان میں داخلے پر پابندی ہو گی۔

’’اس کے ساتھ ساتھ جو ویزا اور امیگریشن قوانین ہیں اُن پر (عمل درآمد کیا جائے گا)۔۔۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے جتنے امیگریشن قوانین ہیں اُن پر عمل درآمد کیا جائے گا۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ غیر اندراج شدہ افغانوں کی رجسٹریشن کے جاری عمل کو تیز کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

’’افغان مہاجرین کو پاکستان میں قیام کے لیے جو (کارڈز) جاری کیے گئے ہیں اُن میں 31 دسمبر 2017 تک توسیع کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ جو غیر اندراج شدہ افغان مہاجرین ہیں وزارت داخلہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ جو رجسٹریشن کا عمل ہو رہا ہے اس پر عمل درآمد کی منظوری دی گئی۔‘‘

پاکستان میں تین دہائیوں سے زائد عرصے سے مقیم افغان پناہ گزینوں کی اُن کے اپنے ملک واپسی سے متعلق ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کا عمل ہوتا رہا ہے۔

گزشتہ برس کے اواخر میں سیاسی جماعتوں کے مشاورتی اجلاس میں یہ سفارش کی گئی تھی کہ پاکستان میں غیر اندراج شدہ افغان پناہ گزینوں کے کوائف کا اندارج کیا جائے تاکہ جب وہ واپس اپنے ملک جائیں تو اُنھیں بھی اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی طرف سے وہ اعانت مل سکے جو پہلے سے اندارج شدہ افغان پناہ گزینوں کو وطن واپسی پر ملتی ہیں۔

سیاسی جماعتوں کی طرف سے یہ تجاویز بھی دی گئی تھیں کہ ایسے افغان جن کی پاکستان میں شادیاں ہوئیں، یا افغان طالب علموں، مریضوں اور کاروبار سے وابستہ افغانوں کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے اُن کی سہولت کے لیے پالیسی بنائی جانی چاہیئے۔

تاہم منگل کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس بارے میں تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ’یو این ایچ سی آر‘ کے مطابق لگ بھگ 13 لاکھ افغان پناہ گزین باقاعدہ اندراج کے ساتھ پاکستان میں مقیم ہیں جب کہ پاکستانی حکام کے مطابق تقریباً 10 لاکھ افغان بغیر کسی قانونی دستاویز کے پاکستان مختلف علاقوں میں رہ رہے ہیں۔

پاکستانی حکام کا یہ موقف رہا ہے کہ حکومت یہ نہیں چاہتی کہ کسی بھی افغان کو زبردستی اُن کے ملک واپس بھیجا جائے، تاہم حکام کی طرف سے تواتر کے ساتھ یہ بیانات سامنے آتے رہے ہیں کہ پاکستان افغان پناہ گزینوں کی جلد اُن کی آبائی وطن واپسی کا خواہاں ہے اور بظاہر اسی تناظر میں گزشتہ سال پاکستان سے افغانستان واپس جانے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

XS
SM
MD
LG