رسائی کے لنکس

’افغان میڈیا کو مذہبی رہنماؤں سے خطرہ‘


’افغان میڈیا کو مذہبی رہنماؤں سے خطرہ‘

صحافیوں کے حقوق کی علم بردار تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ نے افغانستان میں مذہبی دانشوروں کی کونسل کی طرف سے یکم جون کو کیے گئے اُس باضابطہ اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں ذرائع ابلاغ کے دو اداروں پر ’’بداخلاقی‘‘ اور ’’اسلام سے عداوت‘‘ پر اُنھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

نیویارک میں قائم تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان سیاست میں خاصہ اثرورسوخ رکھنے والی کونسل نے روزنامہ ہشتِ صبح اور طلوع ٹیلی ویژن کو ہدف بنایا ہے۔

سی پی جے کے مطابق کابل سے شائع ہونے والے اخبار کے مالک اور ناشر سنجر سہیل کا کہنا ہے کہ دو شمالی صوبوں میں لڑکیوں کی دینی تربیت پر تنقیدی مضمون نے کونسل کو غصہ میں مبتلا کیا ہے۔

اس مضمون میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بعض والدین کو تشویش ہے کہ دینی مدارس میں اُن کی بچیوں کو سخت گیر رجحانات کی طرف مائل کیا جا رہا ہے۔

سہیل کا کہنا تھا کہ کونسل کے ردعمل سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مستقبل میں آزاد میڈیا کو خطرات لاحق ہوں گے۔

سی پی جے کے مطابق کونسل نے طلوع ٹیلی ویژن کو ’’مذہب کے خلاف‘‘ پروگرام پیش کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تنظیم کے مطابق 2004ء میں قیام کے بعد سے طلوع کو تفریحی پروگراموں کے حوالے سے دباؤ کا سامنا ہے۔

سی پی جے کے ایشیاء میں عہدے دار باب ڈائٹز نے کہا ہے کہ افغان ذرائع ابلاغ ملک میں اظہار رائے کے اہم ذریعے ہیں۔ اُنھوں سے صدر حامد کرزئی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کوئی یقینی بنائے کہ مذہبی رہنماؤں کی توقعات اظہار رائے کی آزادی پر اثرانداز نا ہوں۔

XS
SM
MD
LG