رسائی کے لنکس

قرآن کی ’بے حرمتی‘ پر نیٹو کمانڈر کی معذرت


تقریباً 1,000 مظاہرین نے بگرام ایئر بیس کے باہر جمع ہو کرقرآن کی مبینہ بے حرمتی کی مذمت کی۔

تقریباً 1,000 مظاہرین نے بگرام ایئر بیس کے باہر جمع ہو کرقرآن کی مبینہ بے حرمتی کی مذمت کی۔

افغانستان میں تعینات بین الاقوامی اتحاد کے کمانڈر نے نیٹو اہلکاروں کی طرف سے قرآنی نسخوں کی مبینہ بے حرمتی کی اطلاعات کی تحقیقات کرانے کا وعدہ کیا ہے۔

امریکی جنرل جان ایلن نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے بگرام کے فضائی اڈے پر اتحادی فوجیوں کی طرف سے مذہبی تحریری مواد بشمول قرآن کو ’’نامناسب انداز سے ضائع‘‘ کرنے کی اطلاعات کے بعد اس کی ’’جامع تحقیقات‘‘ کا حکم دے دیا ہے۔

جنرل ایلن کا اصرار تھا کہ یہ اقدام دانستہ نہیں تھا۔ انھوں نے افغان عوام اور حکومت سے کسی بھی دل آزاری پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو ایسے اقدامات کر رہی ہے تاکہ ’’ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہ ہو‘‘۔

ان کے بقول مذہبی مواد کو اکٹھا کرنے کے بعد متعلقہ حکام کے سپرد کر دیا گیا ہے تاکہ اس کو ’’مناسب طور سے رکھا جا سکے‘‘۔

ان اطلاعات کے بعد تقریباً 2,000 مظاہرین نے بگرام ایئر بیس کے باہر جمع ہو کرقرآن کی مبینہ بے حرمتی کی مذمت کی۔

حالیہ برسوں میں افغانستان میں قرآن کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج ہلاکت خیز مظاہروں میں تبدیل ہوتا دیکھا گیا ہے۔

اپریل 2011ء میں امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک غیر معروف پادری ٹیری جونز کی طرف سے قرآن نذرآتش کیے جانے کے خلاف افغانستان میں کئی روز تک مظاہرے جاری رہے جن میں لگ بھگ 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG