رسائی کے لنکس

افغان حکمت عملی کاجائزہ: پاکستان میں روپوش القاعدہ توجہ کا مرکز


افغان حکمت عملی کاجائزہ: پاکستان میں روپوش القاعدہ توجہ کا مرکز

افغان حکمت عملی کاجائزہ: پاکستان میں روپوش القاعدہ توجہ کا مرکز

صدر براک اوباما کی افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکی پالیسی کے جائزے میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکمت عملی میں توجہ بدستور پاکستان میں موجود القاعدہ پر مرکوز رہے گی جس کی قیادت سے خطرات درپیش ہیں ۔

صدر اوباما نے جمعرات کووائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے سامنے رپورٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ کی سینیئر قیادت اور پاکستان میں اس کے محفوظ ٹھکانوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور اب وہاں وہ پہلے سے کم محفوظ ہیں۔ لیکن القاعدہ اب بھی بدستور ایک خطرہ ہے اور وہ امریکہ کو اپنا ہدف بنائے ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ اور اسکے اتحادی افغانستان میں کامیاب ہورہے ہیں اور اگلے سال سے کنٹرول افغان حکومت کو منتقل کرنے کا سلسلہ شروع ہوجائیگا۔

جائزے میں کہا گیاہے کہ افغانستان میں طالبان تحریک سے وابستہ افراد کو گرفتار کیا جاچکاہے اور وہ کچھ علاقوں تک محدود ہوگئے ہیں ۔ لیکن ابھی ان کامیابیوں کی حیثیت نازک ہے اور صورت حال پلٹ بھی سکتی ہے۔

جائزے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات دیرپا لیکن ناہموار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افغان سرحد کے ساتھ واقع سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کے لیےپاکستان کی جانب سے مزید تعاون کی ضرورت ہے ۔

یہ جائزہ صدر اوباما کے پچھلے سال افغانستان میں 30 ہزار مزید فوجی بھیجنے کے اعلان کے ایک سال بعد سامنے آیا ہے۔ توقع ہے کہ صدر اوباما جمعرات کو دیرگئے اس حکمت عملی پر گفتگو کریں گے۔

اسی دوران واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی نیوز کے رائے عامہ کے ایک تازہ جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ افغانستان میں جنگ کی حمایت اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

سروے میں کہا گیا ہے کہ 60 فی صد امریکیوں کا خیال ہے کہ جنگ لڑنے کی ضرورت نہیں ہے، جو کہ اب تک کے جائزوں کی بلند ترین شرح ہے۔ جب کہ صرف 34 فی صد نے جنگ کی حمایت کی ہے۔

پچھلے سال اسی موقع پر 44 فی صد امریکیوں نے افغان جنگ کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیاتھا۔

XS
SM
MD
LG