رسائی کے لنکس

پاکستان میں افغانستان کی موبائل سِموں کا بڑھتا غیر قانونی استعمال


کراچی موبائل فون

کراچی موبائل فون

افغانستان کی سِمز پاکستانی حدود میں بلاک کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ اکثر بھتہ خور انہی غیر ملکی موبائل سِموں کے ذریعے تاجروں سے بھتہ مانگتے ہیں۔

پاکستان میں موبائل فون کا بڑھتا استعمال عوام کے ساتھ ساتھ حکومت کے لئے بھی رفتہ رفتہ مشکلات کا باعث بنتا جارہا ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے دہشت گردی ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کو موبائل سِمز کو بطور ڈیٹونیٹر استعمال کرنے سے دہشت گردی کی وارتوں میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ یہ موبائل سمیں حکام کے لئے درد ِسر بن چکی ہیں۔

یہی سبب ہے کہ ماضی میں وزیر ِداخلہ کے منصب پر فائز رہنے والے رحمٰن ملک خاص خاص مواقع اور تہوار کے موقع پر موبائل فون سروسز بند کرتے رہے ہیں جبکہ سروس کی عارضی معطلی اس مسئلے کا مستقل حل ثابت نہیں ہو سکی۔

پاکستان میں افغانستان کی موبائل سِموں کا بڑھتا استعمال جرائم کی شرح میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ اس بات کا انکشاف بھتہ خوری کی متعدد وارداتوں کے بعد ہوا۔ اسی سلسلے سے جڑا ایک حیرت انگیز امر یہ بھی ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے پاس افغانستان کی سِمز پاکستانی حدود میں بلاک کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ اکثر بھتہ خور انہی غیر ملکی سموں کے ذریعے تاجروں سے بھتہ مانگتے ہیں اور جب پولیس یا دوسرے ادارے ان فون کالز کی تحقیقات کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فون افغانستان سے کیا گیا ہے۔

وزیر ِمملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے بُدھ کے روز قومی اسمبلی کو بتایا کہ بھتہ خور افغانستان کی موبائل فون سِمز پاکستان میں استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسمبلی کے فلور پر ارکان سے خطاب میں کہا کہ جرائم پیشہ افراد اور دونوں ممالک میں موجود دہشت گرد ان سِمز کو استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پی ٹی اے کے پاس غیر ملکی سمز کو بلاک کرنا کا کوئی نظام موجود نہیں۔

ایوان میں نعیمہ کشور، شاہدہ اختر اور عابد کامران کی جانب سے توجہ دلائی گئی کہ خیبر پختونخواہ کی مارکیٹوں میں کھلے عام افغانستان کی سمز فروخت ہورہی ہیں۔

وزیر ِمملکت نے تسلیم کیا کہ افغانستانی سم کے استعمال سے جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ماضی کی حکومتوں نے بھارت اور افغانستان سے آنے والے سگنلز کو روکنے کا مسئلہ اٹھایا تھا تاہم پی ٹی اے کے پاس ان سگنلز کو روکنے اور سِمز کو بلاک کرنے کا نظام موجود نہیں۔

وزیر ِمملکت شیخ آفتاب کا کہنا ہے کہ ملک میں بدامنی کی بنیادی وجہ غیر ملکی موبائل فون سمز کا استعمال ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ افغانستان کی حکومت کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھایا جائے گا جبکہ صوبائی حکومتوں کو غیر ملکی سمز کی غیر قانونی فروخت یقینی طور پر روکنا ہوگی۔
XS
SM
MD
LG