رسائی کے لنکس

افغان طالبان نے درجنوں مسافروں کو یرغمال بنا لیا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

جن افراد کو یرغمال بنایا گیا اُن کی شناخت سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں لیکن خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اُن میں افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی ہو سکتے ہیں

افغانستان کے شمالی صوبہ قندوز میں طالبان عسکریت پسندوں نے متعدد بسوں کو زبردستی روک کر ان میں سوار درجنوں افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔

افغان عہدیداروں کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق طالبان کی اس کارروائی کے دوران مارے جانے والے افراد کی تعداد 10 سے 17 تک ہے۔

حکام کے مطابق یہ واقعہ مرکزی شہر قندوز کے علاقے علی آباد کے قریب منگل کو علی الصبح پیش آیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بدخشاں سے کابل جانے والی ان گاڑیوں میں لگ بھگ 200 افراد سوار تھے جن میں سے 30 سے زائد کو یرغمال بنا لیا گیا جب کہ باقی کو طالبان نے چھوڑ دیا۔

جن افراد کو یرغمال بنایا گیا اُن کی شناخت سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں لیکن خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اُن میں افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی ہو سکتے ہیں

ماضی میں عسکریت پسندوں کی طرف سے بسوں کو ایسے زبردستی روک کر مسافروں کو ہلاک اور یرغمال بنائے جانے کے واقعات رونما ہو چکے ہیں اور ان میں مبینہ طور پر ہزارہ برادری کے لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

صوبہ قندوز میں طالبان اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور گزشتہ سال انھوں نے چند دنوں کے لیے اس کے مرکزی شہر پر قبضہ بھی کر لیا تھا۔

تاہم افغان فورسز نے ملک میں تعینات بین الاقوامی افواج کی مدد سے طالبان سے قندوز شہر کا قبضہ ختم کروا لیا تھا۔

اُدھر اطلاعات کے مطابق افغانستان کے صوبہ ہلمند میں بھی طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

طالبان نے ایک روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ لڑائی میں ہلمند میں افغان سکیورٹی فورسز کے لگ بھگ 50 اہلکار مارے گئے ہیں جب کہ اُن کے درجنوں ساتھی زخمی بھی ہوئے۔

صوبہ ہلمند کے مختلف علاقوں میں طالبان کی کارروائیوں میں ناصرف تیزی آئی ہے بلکہ اُنھوں نے بعض حصوں پر قبضہ بھی کر رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG