رسائی کے لنکس

مزید امریکی فوجی بھیجنے کے منصوبے پر افغان طالبان کا ردعمل


لشکر گاہ میں افغان فورسز امریکی فوجی معاونین کے ہمراہ

ایک بیان میں طالبان کا کہنا تھا کہ امریکی زیرقیادت فورسز کی موجودگی اور "چند سو فوجیوں کی آمد ان کی پیش قدمی کو نہیں روک سکے گی۔"

افغان طالبان نے جنوبی صوبہ ہلمند میں 300 امریکی فوجی بھیجے جانے کے منصوبے کو یہ کہہ کر مسترد کیا ہے کہ یہ لڑائی میں مصروف افغان فورسز کی "صرف حوصلہ افزائی" کی کوشش ہے تاکہ "موسم بہار تک ان (فورسز) کے اہلکار یہاں ڈٹے رہیں۔"

2014ء کے اواخر میں نیٹو کے لڑاکا مشن کے اختتام اور امریکی فورسز کے ہلمند سے انخلا کے بعد پوست کی کاشت والے اس بڑے صوبے کے زیادہ تر اضلاع پر عسکریت پسندوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

امریکی فضائی کارروائیوں اور فوجی مشیروں کی مدد سے افغان حکومت نے حالیہ مہیںوں میں ہلمند کے مرکزی شہر لشکر گاہ پر اپنی گرفت کو مضبوط کی ہے لیکن یہ علاقہ اب بھی طالبان کے حملوں کی زد میں ہے۔

اتوار کو ایک بیان میں طالبان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی زیر قیادت فورسز کی موجودگی اور "چند سو فوجیوں کی آمد ان کی پیش قدمی کو نہیں روک سکے گی۔"

بیان میں مزید کہا گیا کہ "ایسے اقدام اوباما کی آخری ناکام کوششوں کا حصہ ہیں۔"

امریکی میرین کور نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اس دور افتادہ صوبے میں رواں سال کے دوران تین سو فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں گے جو کہ افغانستان میں نیٹو کے مشاورتی مشن کا حصہ ہوں گے۔

کور کی طرف سے کہا گیا کہ "میرین کور کی افغانستان خصوصاً صوبہ ہلمند میں کارکردگی کی ایک تاریخ ہے اور یہ افغانوں کے ساتھ مل کر یہاں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مستحکم بنانے میں معاونت کرے گی۔"

افغانستان میں بین الاقوامی افواج کی طرف سے مقامی فورسز کی تربیت اور مشاورت کے مشن میں امریکہ کے لگ بھگ 8500 فوجی شامل ہیں جو کہ القاعدہ اور شدت پسند تنظیم داعش سے وابستہ عسکریت پسندوں کے خلاف اپنے طور پر بھی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

لیکن امریکی فوجی مشن کا یہاں مستقبل واضح نہیں ہے کیونکہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں ان آپریشنز کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔

تاہم ایک اعلیٰ امریکی سفارتکار نے گزشتہ ہفتے کابل میں افغان قیادت سے ملاقاتوں میں انھیں یقین دلایا کہ واشنگٹن ان کے ملک میں امن، خوشحالی اور سلامتی کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔

امریکہ کے نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور تھامس شینن کا کہنا تھا کہ "افغانستان سے متعلق ہمارا عزم 20 جنوری کو ختم نہیں ہوتا (اس تاریخ کو ٹرمپ بطور امریکی صدر حلف اٹھائیں گے)۔"

ان کے بقول یہ مزید بڑھے گا اور اس تعلق کی اسٹریٹیجک اہمیت سب پر عیاں ہے۔

XS
SM
MD
LG