رسائی کے لنکس

افغان سکیورٹی فورسز کا قندوز کا قبضہ حاصل کرنے کا دعویٰ


ترجمان کا کہنا تھا ک صدر غنی نے "شہر، صوبے اور پورے شمالی خطے سے دہشت گرد گروہوں سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے" آپریشن جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔

افغانستان میں حکام نے ایک بار پھر شمالی شہر قندوز کے مرکزی حصے کا قبضہ طالبان سے چھڑا لیا گیا ہے۔

قندوز پولیس کے سربراہ محمد قاسم جنگل باغ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ شہر میں معمولات زندگی بحال ہو رہے ہیں۔

"ہم نے شہر کو صاف کر دیا ہے اور اب کوئی تشویش نہیں ہے۔ شہری اپنے معمولات زندگی کی طرف واپس آسکتے ہیں۔"

صدر اشرف غنی کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ "دشمنوں کے کچھ اکا دکا عناصر" رہائشی علاقوں میں موجود ہیں اور طالبان کو شہر سے نکالنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔

نائب ترجمان ظفر ہاشمی کا کہنا تھا کہ "ہماری پوری کوشش ہے کہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے اور اسی بنا پر ہمارے آپریشنز کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔"

ان کا کہنا تھا ک صدر غنی نے "شہر، صوبے اور پورے شمالی خطے سے دہشت گرد گروہوں سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے" آپریشن جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے طالبان نے اس اہم شہر پر قبضہ کیا تھا لیکن فورسز نے کارروائی کر کے قبضہ بحال کر لیا لیکن ایک روز قبل پھر طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ بھرپور لڑائی شروع ہو گئی تھی۔

شہر پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان نے سڑکوں پر بارودی سرنگیں بچھا دیں، مبینہ طور پر سرکاری املاک اور کاروباری مراکز میں لوٹ مار کی اور انھیں نذر آتش کر دیا جب کہ صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو ہراساں کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔

XS
SM
MD
LG